حیات قدسی — Page 379
۳۷۹ ہمنواؤں کے سب نے ایسے خیالات سے بیزاری کا اظہار کیا۔" جن احمدیوں نے پہلے دستخط کر دیئے تھے۔وہ محض غلط فہمی اور وسوسہ کی وجہ سے تھے۔چنانچہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے الہام کے مطابق کہ وسوسہ نہیں رہے گا۔ان کا وسوسہ جلد دور ہو گیا۔اور مٹی کا نظیف ہونا۔یعنی احباب کی فطرت کا سعید اور پاک ہونا بھی ثابت ہو گیا۔فالحمد لله علی ذالک تعلیم الاسلام ہائی سکول میں خاکسار سید نا حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی وفات کے بعد اپنے وطن واپس چلا گیا تھا۔وہاں سے سیدنا حضرت خلیفۃ المسیح اول رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے بذریعہ خط مجھے قادیان بلایا اور تعلیم الاسلام ہائی سکول میں پانچویں سے لے کر دسویں تک قرآن کریم اور عربی کتب نصاب کی تعلیم پر مقرر فرمایا۔اس وقت حضرت صاحبزادہ میاں بشیر احمد صاحب سلمہ اللہ دسویں جماعت میں اور حضرت صاحبزادہ میاں شریف احمد صاحب سلمہ اللہ تعالی آٹھویں جماعت میں پڑھتے تھے۔انہی و دنوں میں جب میں قادیان میں مقیم تھا۔تو ۱۹۰۹ ء کے ابتداء میں حضرت خلیفۃ المسیح اول رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے باہر سے احباب جماعت کو قادیان مدعو کر کے ان کے سامنے نہایت پر تاثیر تقریر فرمائی۔اور خواجہ کمال الدین صاحب اور ڈاکٹر مرزا یعقوب بیگ صاحب وغیر ہما سے دوبارہ بیعت لی۔اس مجلس میں جس کی تفصیل حضرت خلیفۃ المسیح الثانی ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے اپنی معرکۃ الآراء تصنیف ” آئینہ صداقت میں درج فرما دی ہے میں بھی موجود تھا۔حج کعبه ایک دفعہ جلسہ سالانہ کے موقع پر جب میں فلسفہ مسائل حج کے موضوع پر تقریر کر رہا تھا تو مندرجہ ذیل اشعار بجذ بہ تعشق چند منٹ میں کہے گئے :۔بجذب القلوب الى ديار حبيبنا وشد الرحال لَحَج عُشّاق ملته و كعبتنا بيت لليـلاء سرمد ومنزل محبوبِ اَحَبَّ احبته له كل قيس العشق يسعى بناقة تجلى لهم نور الجمال بشدة