حیات قدسی — Page 356
۳۵۶ مذکر میں تقی کی طرح تی۔امر کا صیغہ بنانے کے لئے مضارع کی علامت حرف ت جو مضارع میں بصیغہ حاضر استعمال ہوتی ہے۔اور امر کے صیغہ میں وہ علامت حذف کر دی جاتی ہے۔اور آخر کا حرف ی بھی بوجہ حرف علت بقاعدہ تخفیف حذف کر دیا جاتا ہے جیسے تدعو جو مضارع ہے۔اس میں اُذعُ صیغہ امر میں آخر کا حرف و جو علت ہے اسے حذف کیا جاتا ہے۔اور صرف حرکت ضمہ یا فتح یا خفض کو تخفیف کے وقت حرف علت کی قائم مقامی میں کافی سمجھ لیا جاتا ہے۔ق اور ا دونوں امر حاضر کے واحد مذکر صیغے ہیں۔اور جب ان کو مؤنث کیا جائے تو قی اور ائی بن جاتے ہیں۔اور جب ائی کو بغرض اظہار معنے تاکید نون ثقیلہ سے منظم کیا جائے تو ائی کا حرف ي بوجہ التفائے ساکنین گر گیا۔اور سقوط ي سے باقی ان رہ گیا۔جب میں نے یہ تشریح کی تو ایک صاحب سوال کرنے لگے کہ ائی سے نون ثقیلہ منضم کرنے سے اجتماع ساکنین کی صورت کس طرح وقوع میں آئی۔کیونکہ نون ثقلیہ تو مشد داور منصوب ہوتا ہے۔میں نے جواباً عرض کیا کہ آپ جانتے ہیں کہ نون ثقیلہ سے پہلا حرف دو ہی صورتیں رکھتا ہے۔مثلاً یا وہ ،۔یا حرف علت میں سے ہو۔یا حروف علت میں سے نہ ہو۔نون ثقیلہ دراصل ایک نون نہیں بلکہ دونون ہیں۔اور پہلا نون ساکن اور دوسرا مفتوح ہے اور ان اپنی وضع اور شکل میں ان ہے۔جو نون کے مشد دہونے کی وجہ سے ان ہو گیا۔اب جب کہ نون کے ثقیلہ کے مشد دنوں میں دراصل دونون ہیں اور پہلان ساکن ہے تو اگر اس سے پہلے کوئی حرف علت آجائے۔اور وہ جیسے کہ ائی میں ”ي“ ساکن ہے ساکن ہو تو بوجہ التقا ساکنین کے وہ حرف علت گر جائے گا۔کیونکہ اجتماع ساکنین محال ہے۔جب میں نے اس حد تک تشریح کی تو بعض علماء نے کہا کہ اب ہم اس مسئلہ کو بخوبی سمجھ گئے ہیں۔اس پر میں نے کہا کہ ابھی سوال کا جواب پورے طور پر نہیں دیا گیا۔ابھی مزید تشریح کی ضرورت ہے۔چنانچہ میں نے عرض کیا کہ سائل کا سوال تو حركة قامت لمقام الجمله کا فقرہ ہے۔اور میں نے ابھی تک جو تشریح کی ہے وہ اپنی اور ان کے متعلق ہے۔نہ حرکت کے متعلق جو جملہ کے قائم مقام ہے۔گومیری مندرجہ بالا تشریح سے اصل سوال کا جواب غور کرنے پر مل بھی سکتا ہے۔میں نے مزید تشریح کرتے ہوئے کہا کہ حروف علت کی طرح حرف ہمزہ کے متعلق بھی علماء نے