حیات قدسی

by Other Authors

Page 348 of 688

حیات قدسی — Page 348

۳۴۸ جہاز کے کپتان کی طرف سے حکم دیا گیا کہ سب مسافر جہاز سے اتر کر کشتیوں میں سوار ہوں اور ساحل پر پہنچیں۔چنانچہ ایک کشتی پر ہم سوار ہوئے۔جب ہم ساحل سے نصف میل کے قریب تھے تو اچانک سمندر میں طوفان آ گیا اور ہماری کشتی ڈگمگانے لگی۔اس ہولناک منظر سے ملاح بھی خوفزدہ ہو کر چلانے لگے۔اور زور زور سے یا پیر بخاری یا پیر عبد القادر جیلانی یا پیر خضر کی صدائیں وو 9966 " بلند ہونے لگیں۔دیکھتے ہی دیکھتے کشتی میں پانی بھرنا شروع ہو گیا اور سب سواریوں کو موت سر پر منڈلاتی ہوئی نظر آنے لگی۔میری طبیعت بمبئی سے ہی اعصابی دردوں کی وجہ سے خراب تھی اور اس وقت بھی دورہ تھا۔لیکن جب میں نے ملاحوں کی مشر کا نہ صدائیں سنیں اور ادھر کشتی کی حالت کو دیکھا تو میرا قلب غیرت سے بھر گیا۔اور میں اسی جوش میں کھڑا ہو گیا۔اور ملاحوں کو کہا کہ تم لوگ شرک کے کلمات کہہ کر اپنی تباہی اور بھی زیادہ قریب کر رہے ہو۔تم ان نازک حالات میں ایسے مشرکانہ کلمات سے تو بہ کرو اور صرف اللہ تعالیٰ کی جناب سے استمداد کرو۔پیر بخاری کون ہے۔اور پیر خضر اور پیر عبدالقادر جیلانی کیا ہیں۔یہ سب اس لاشریک اور قدوس خدا کے عاجز بندے ہیں اور اللہ تعالیٰ کی نصرت کے بغیر کچھ بھی نہیں ہوسکتا۔بندوں سے مت مانگو بلکہ رب العالمین خدا سے مدد طلب کرو۔جس نے ان پیروں اور بزرگوں کو پیدا کیا اور ان کو بزرگی بخشی۔اور یہ سمندر بھی کیا ہے۔میرے قادر و مقتدر خدا کا ایک ادنیٰ خادم ہے۔جو اس کے دست تصرف کے ماتحت مد و جزر دکھاتا ہے۔پس اگر وہ چاہے تو یہ جوش تموج اسی وقت ختم ہو سکتا ہے۔اللہ تعالیٰ کے عجیب تصرفات ہیں کہ میں نے منہ سے یہ کلمات نکالے ہی تھے کہ سمندر کی موج ہٹ گئی اور اس کا جوش تھم گیا۔اور کشتی آرام سے چلنے لگی۔تب وہ ملاح ہاتھ جوڑ کر کہنے لگے کہ ہماری تو بہ ! ہماری تو بہ ! واقعی اللہ تعالیٰ ہی ہے جو طوفان سے بچا سکتا ہے۔خدا تعالیٰ کے عجائبات ہیں کہ طوفانی لہروں کی شدت کے وقت مجھے اس قدر روحانی طاقت محسوس ہوتی تھی کہ مجھے یقین تھا کہ اگر ملاح اپنے مشر کا نہ کلمات سے باز نہ آئے اور اس وجہ سے کشتی ڈوب گئی تو میں اور عزیز عرفانی صاحب سطح آب پر چل کر بفضلہ تعالی سلامتی سے کنارے پر پہنچ جائیں گے۔کیونکہ ہم مرکز کی ہدایت کے ماتحت تبلیغ حق کے لئے جا رہے تھے۔اس واقعہ کا ذکر