حیات قدسی

by Other Authors

Page 339 of 688

حیات قدسی — Page 339

۳۳۹ عالم امر - عالم خلق کا تعلق مادیت سے ہے۔اور عالم امر کا روحانیات سے اور عالم امر کی پیدائش کے متعلق اللہ تعالیٰ فرماتا ہے إِنَّمَا أَمْرُهُ إِذَا أَرَادَ شَيْئًا أَنْ يَقُولَ لَهُ كُنْ فَيَكُون یعنی جو پیدائش عالم امر سے تعلق رکھتی ہے اس کے متعلق یہ سنت الہی ہے کہ جب اللہ تعالیٰ کسی چیز کا ارادہ کرتا ہے تو اس کے لئے گن فرماتا ہے پس وہ ہو جاتی ہے۔پس روح کی پیدائش کو اس آیت میں عالم امر سے قرار دیا گیا ہے۔سوامی دیانند صاحب نے بھی رگوید آوی بھاشا بھومکا میں جہاں پیدائش عالم کا ذکر کیا ہے۔وہاں مختلف زمینوں کو بیان کرنے کے بعد آخری زمینہ ایشور کی سامرتھ یعنی قدرت بیان کی ہے۔(۲) مِنْ أَمْرِ رَبِّی کے الفاظ سے اس حقیقت کی طرف اشارہ ہے کہ جو کام تمام جہانوں کی ربوبیت کا رب کر رہا ہے۔وہی کام روح انسانی۔انسان کے محدود جسم میں کر رہی ہے اور جس طرح جسم اپنے اعضاء اور جوارح کے لحاظ سے محدود ہے۔اسی طرح روح اپنی قوتوں اور گنوں میں محدود ہے۔سوامی دیانند صاحب نے بھی اپنی کتاب سیتا رتھ پر کاش میں ویدک دھرم کا روح کے متعلق یہی عقیدہ ظاہر کیا ہے۔کہ اس کے گن محدود ہیں۔اور یہ ظاہر ہے کہ محدود گنوں والی چیز بغیر کسی محدّد کے محدود نہیں ہوسکتی اور یہ امر روح کو حادث اور مخلوق ثابت کرتا ہے۔(۳) امرِ رَبِّی کے الفاظ سے یہ بھی ظاہر ہوتا ہے کہ روح انادی اور خود بخود نہیں بلکہ مخلوق ہے۔کیونکہ قرآن کریم اور لغت کے رُو سے ربّ کے معنی خالق اور پیدا کرنے والے کے بھی ہیں۔جیسا کہ قرآن کریم میں فرمایا يَأَيُّهَا النَّاسُ اعْبُدُوا رَبَّكُمُ الَّذِي خَلَقَكُمُ یعنی اے لوگو اپنے اس رب کی عبادت کرو جس نے تمہیں پیدا کیا۔پس اس آیت میں رب کا لفظ استعمال کر کے آریہ مت کے اس عقیدہ کی تردید کی کہ روح غیر مخلوق اور ا نا دی ہے۔(۴) رب کے لفظ سے اس طرف بھی اشارہ کیا کہ روح کو ادنیٰ حالت سے اعلیٰ حالت کی طرف ترقی ملتی ہے۔کیونکہ ربّ کے معنے ادنیٰ حالت سے حسن تربیت کے ذریعہ اعلیٰ مدارج تک پہنچانے والی ہستی کے ہیں۔یہ معنی قرآن کریم کی آیت رَبِّ ارْحَمْهُمَا كَمَا رَبَّيَانِي صغيرا 55 سے بھی ثابت ہوتے ہیں۔پس اس بات کا ذکر کر کے کہ روح امر رب سے ہے۔اس طرف اشارہ کیا ہے کہ روح کی حالت تغیر پذیر ہے اور ادنیٰ حالت سے اعلیٰ حالت کی طرف ترقی کرنے والی ہے۔پھر یہ بات