حیات قدسی

by Other Authors

Page 314 of 688

حیات قدسی — Page 314

۳۱۴ کرے۔اس مطالبہ کے متعلق اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے کہ جواباً کہہ دیا جائے کہ مجھ سے پہلے جو رسول آئے وہ علاوہ دیگر نشانات اور بینات ظاہر کرنے کے سوختنی قربانیاں بھی پیش کرتے رہے پھر تم لوگوں نے ان کو کیوں قتل کیا۔قرآن کریم کی بیان کردہ اس مثال سے واضح ہوتا ہے کہ اہل کتاب نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر سوختنی قربانی کے منسوخ کرنے کی وجہ سے اعتراض پیش کیا۔اور اس بنا پر کہ آپ نے سوختنی قربانی کو منسوخ کیا تھا۔آپ کو قبول کرنے سے انکار کیا۔اس کا جواب اللہ تعالیٰ نے یہ نہیں دیا کہ سوختنی قربانی منسوخ نہیں کی گئی بلکہ یہ دیا کہ اس کی منسوخی کی بنا پر ان کا انکار درست نہیں۔اور یہ کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے پہلے باوجود اس کے کہ رسول سوختنی قربانی پیش کرتے تھے۔لیکن اس عہد کو پورا کرنے کے باوجود بھی یہودیوں نے ان کا انکار کیا اور ان کے قتل کے درپے ہوئے۔میں نے کہا۔ایک مثال تو قرآن کریم سے میں نے پیش کر دی ہے۔اور بھی بہت سی مثالیں پیش کی جاسکتی ہیں۔مثلا تحویل قبلہ کا مسئلہ یتیم کا مسئلہ۔پھر اُحِلَّ لَكُمْ لَيْلَةَ الصِّيَامِ الرَّفَتُ إِلَى نِسَائِكُم 26 کا ارشاد ہے۔اسی طرح قرآن کریم سے پہلے ہر کتاب کی تعلیم و ہدایت اور رسول کی بعثت مخصوص اقوام کے لئے اور مخصوص الزمان تھی۔لیکن قرآن کریم اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیم و ہدایت تمام اقوام کے لئے اور قیامت تک کے لئے ہے۔جو ایک زائد خصوصیت ہے۔یہ سن کر محمد ہاشم صاحب فرمانے لگے کہ إِنَّ هَذَا لَفِی الصُّحُفِ الْأَوْلَى صُحُفِ إِبْرَاهِيمَ و موسی 20 کے الفاظ سے تو ظاہر ہے کہ یہ قرآن کریم پہلے صحیفوں اور حضرت ابراہیم علیہ السلام اور حضرت موسیٰ علیہ السلام کے صحیفوں میں پایا جاتا ہے۔پھر کمی بیشی کس طرح تسلیم کی جائے۔میں نے عرض کیا کہ ھذا سے بعض قرآن بھی مراد ہو سکتا ہے جیسے اِذا قَرَأْتَ الْقُرآن کے رُو سے قرآن کریم کی ایک آیت بھی مراد ہو سکتی ہے۔پس إِنَّ هذا الخ کے فقرہ میں ھذا سے سورہ اعلیٰ کے مشار الیہ مضمون کی طرف اشارہ ہے۔اور وہ یہ ہے فَذَكَرُ اِنْ نَفَعَتِ الذِكْرَى سَيَذَّكَّرُ مَنْ يَخْشَى وَ يَتَجَنَّبُهَا الْأَشْقَى الَّذِي يَصْلَى النَّارَ الْكُبْرَى O ثُمَّ لَا يَمُوتُ فِيهَا وَلَا يَحْيِي قَدْ أَفْلَحَ مَنْ تَزَكَّى O وَ ذَكَرَ اسْمَ رَبِّهِ فَصَلَّى بَلْ تُؤْثِرُونَ الْحَيوة الدُّنْيَا وَالْآخِرَةُ خَيْرٌ وَّ أَبْقَى 230 مضمون جس میں اعمال فتیح اور ان کی سزا اور اعمالِ صالحہ اور ان کی جزا کا ذکر کیا گیا ہے۔یہ وہ۔