حیات قدسی

by Other Authors

Page 308 of 688

حیات قدسی — Page 308

۳۰۸ ہونا قرآن کریم کے رُو سے اس کے لئے وجہ فضیلت ہے۔(۲) اگر پادری صاحب کے معیار کو صحیح تسلیم کیا جائے تو فرعون، ہامان ، قارون ، شیطان ابلیس ، خناس کا ذکر قرآن کریم میں آجانے سے یہ سب فضیلت ماب ثابت ہوتے ہیں۔اسی طرح ا بائیبل میں سینکڑوں خدا کے دشمنوں کا نام آیا ہے۔کیا اس وجہ سے وہ افضل ثابت ہو جائیں گے۔(۳) قرآن کریم فرماتا ہے إِنَّ هَذَا القُرآنَ يَقُصُّ عَلَى بَنِي إِسْرَائِيلَ أَكْثَرَ الَّذِي هُمْ فِيهِ يَخْتَلِفُونَ 10 یعنی قرآن کریم میں جن قصص اور واقعات کا بنی اسرائیل کے متعلق ذکر آیا ہے وہ اس وجہ سے ہے کہ تا ان کے اختلافات کی اصل حقیقت واضح کی جائے۔پس جب مریم اور ابن مریم کے تفصیلی ذکر سے یہودیوں اور عیسائیوں کے اختلافات پر بہترین روشنی پڑتی تھی تو ان کا ذکر ضروری تھا۔دوسرے انبیاء کی امہات کا نام لینے کی چونکہ ضرورت نہ تھی۔اس لئے ان کے نام نہ لئے گئے۔یا نچویں خصوصیت مسیح کی پانچویں خصوصیت اور فضیلت یہ پیش کی گئی ہے کہ قرآن کریم کے بیان کے مطابق ان کو کتاب و حکمت اور توریت اور انجیل کی تعلیم دی گئی۔اس کا جواب یہ ہے کہ اگر مسیح علیہ السلام کو توریت اور انجیل جیسی مخصوص القوم اور مخصوص الزمان تعلیم دی گئی ہے تو حضرت محمد رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم کو قرآن مجید جیسی جامع اور عالمگیر کتاب عطا کی گئی ہے۔حضرت موسی اور حضرت عیسی صرف بنی اسرائیل کے رسول تھے۔لیکن آنحضرت کو رَحْمَةً لِلْعَلَمِین بنایا گیا ہے۔(۲) جو کتاب اور حکمت مسیح علیہ السلام نے سیکھی۔وہی کتاب اور حکمت وَيُعَلِّمُهُمُ الْكِتب وَالْحِكْمَةَ 19 کے رُو سے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ نے آپ سے سیکھی۔پس اگر کتاب اور حکمت کا سیکھنا کوئی فضیلت ہے تو صحابہ کرام اس میں مسیح علیہ السلام کے شریک ہیں۔پس پادری صاحب غور فرمالیں کہ کتاب و حکمت سیکھنے والا افضل ہے یا اس کو سکھانے والا ؟ چھٹی خصوصیت ھٹی وجہ فضیلت مسیح کے متعلق پادری صاحب نے ان کا کلمۃ اللہ ہونا بیان کیا ہے۔میں نے