حیات قدسی — Page 305
۳۰۵ میں نے سب سے پہلے بلند آواز سے کلمہ شہادت پڑھا۔اس کے بعد جو جوابات دیئے ان کا خلاصہ درج ذیل ہے۔میں نے کہا کہ:۔(1) پہلی بات جو پادری صاحب نے فضیلت مسیح کے سلسلہ میں پیش کی ہے وہ ان کا بغیر باپ پیدا ہونا ہے۔اس کا پہلا جواب یہ ہے کہ قرآن کریم نے بغیر باپ پیدائش کو کسی جگہ بھی وجہ فضیلت قرار نہیں دیا۔پادری صاحب قرآن کریم کے حوالہ سے مسیح کی پیدائش کو وجہ فضیلت ثابت کریں۔ور نہ یہ ان کا خود تراشیدہ معیار ہے۔جس کا قرآن کریم سے کوئی تعلق نہیں۔(۲) جو امر باعث فضیلت ہوتا ہے اس کی وجہ سے کسی کی مذمت نہیں کی جاتی۔بلکہ لوگ امر فضیلت کو قابل مدح قرار دیتے ہیں۔پادری صاحب کو معلوم ہے کہ قرآن کریم کی آیت علیٰ مَرْيَمَ بُهْتَانًا عَظِيمًا 10 میں اس بات کا ثبوت دیا گیا ہے کہ مسیح کو بن باپ پیدا ہونے کی وجہ سے یہودی ولد الزنا قرار دیتے تھے۔اور مریم پر بدکاری کا الزام عاید کرتے تھے۔پس اگر بغیر باپ پیدا ہونا مسح کے لئے باعث فضیلت ہے تو پھر یہ فضیلت مسیح کے لئے مذمت اور الزام کا باعث کیوں بنی۔میرے خیال میں اگر پادری صاحب کی طرف بغیر باپ کے پیدا ہونے کی فضیلت منصوب کی جائے تو وہ بھی اسے انکار کریں اور اس کو پسند نہ کریں۔(۳) مسیح کو آیت إِنَّ مَثَلَ عِيسَى عِنْدَ اللهِ كَمَثَلِ ادَمَ الح کی رُو سے بلا باپ پیدا ہونے میں آدم علیہ السلام کا مثیل قرار دیا گیا ہے۔اور مماثلت کی رُو سے آدم کا پلہ بھاری ہے۔کیونکہ حضرت آدم پر ماں اور باپ کے بغیر پیدا ہونے کی وجہ سے کوئی الزام نہیں لگایا گیا لیکن مسیح بغیر باپ کے پیدا ہونے کی وجہ سے اپنے لئے بھی اور اپنی والدہ کے لئے بھی باعث الزام ہوئے۔پس فضیلت حضرت آدم کی ثابت ہوئی نہ کہ حضرت مسیح کی۔(۴) پادری صاحب نے فَعَطی آدَمُ رَبَّهُ فَغَوی پیش کر کے آدم کو گنہگار اور مسیح کو پاک ثابت کرنے کی بے سود کوشش کی ہے۔حالانکہ حضرت آدم کے متعلق قرآن کریم میں یہ بھی وارد ہے۔فَنَسِيَ وَلَمْ نَجِدْ لَهُ عَزُما۔یعنی آدم نے غلطی بھول کر کی ارادہ نہ کی۔اور قرآن کریم میں یہ فرمایا گیا ہے۔وَإِذْ قُلْنَا لِلْمَلَئِكَةِ اسْجُدُوا لِآدَمَ 1 یعنی آدم کی وہ شان اور عظمت ہے کہ خدا تعالیٰ نے فرشتوں کو اسے سجدہ کرنے کا حکم دیا آدم بقول پادری صاحب گنہ گار ہو کر بھی اس کا