حیات قدسی

by Other Authors

Page 306 of 688

حیات قدسی — Page 306

۳۰۶ شان کا ہے کہ فرشتوں کو اسے سجدہ کرنے کا حکم دیا گیا۔لیکن مسیح معصوم ہو کر بھی اس علو منزلت تک نہ پہنچ سکا۔(۵) آیت إِنَّ مَثَلَ عِيسَى عِنْدَ اللهِ كَمَثَلِ آدَمَ کے رُو سے مسیح آدم کا مثیل ہے۔پس اگر آدم گنہگار ہے تو مسیح بھی گنہگار ہوا اور بے عیب ثابت نہ ہوا۔ہاں مسیح کے معصوم اور بے گناہ ہونے کے باوجود انجیل کے حوالہ کے مطابق شیطان اس کے پیچھے چالیس دن تک پڑا رہا کہ وہ اسے سجدہ کرے۔پس پادری صاحب موازنہ کر لیں کہ وہ ہستی افضل ہے جس کو فر شتے سجدہ کریں یا وہ جس کو شیطان کہے کہ مجھے سجدہ کر۔دوسرے سوال کا جواب دوسری بات پادری صاحب نے مسیح علیہ السلام کی فضیلت ثابت کرنے کے لئے آیت و أَيَّدَنَهُ بِرُوحِ الْقُدُسِ پیش کی ہے یعنی حضرت مسیح روح القدس سے تائید یافتہ تھے۔اس کا پہلا جواب یہ ہے کہ قرآن کریم میں سورہ حجر میں حضرت آدم کے متعلق اللہ تعالیٰ فرماتا ہے وَإِذْ قَالَ رَبُّكَ لِلْمَلَئِكَةِ إِنِّي خَالِقٌ بَشَراً مِنْ صَلْصَالٍ مِنْ حَمَإٍ مَّسْنُونٍ فَإِذَا سَوَّيْتُهُ وَ نَفَخْتُ فِيهِ مِنْ رُوحِي فَقَعُوا لَهُ سَجِدِینَ۔اس سے ظاہر ہے کہ آدم کو مٹی سے تیار کر کے اس میں اللہ تعالیٰ نے اپنی روح نفخ کی۔اور اس نے روح کی وجہ سے فرشتوں کو حکم ہوا کہ وہ اس کے لئے سجدہ میں گر جائیں۔لیکن حضرت مسیح کی تائید روح القدس سے کی گئی جو ایک فرشتہ ہے۔جیسا کہ آیت قُل نَزَّلَهُ رُوحِ الْقُدُس مِنْ رَّبِّكَ بِالْحَقِّ 15 یعنی کلام الہی کا نزول روح القدس کے ذریعہ سے فرمایا جاتا ہے، سے ظاہر ہے۔اب آدم اور مسیح کا قرآن کریم کے رُو سے مقابلہ کر کے دیکھ لو۔آدم میں خدا تعالیٰ کی روح پھونکی گئی ہے جس کی وجہ سے فرشتوں کو اس کے لئے سجدہ کرنے کا حکم ملا ہے۔لیکن مسیح علیہ السلام کو صرف ایک فرشتے یعنی روح القدس کی تائید حاصل ہوئی۔حالانکہ آدم کو سب فرشتوں کی تائید حاصل ہوئی۔(۲) پادری صاحب کا مطالبہ ہے کہ جو وجہ فضیلت مسیح انہوں نے قرآن کریم سے پیش کی ہے۔وہ قرآن کریم سے کسی اور نبی کے لئے ثابت کی جائے۔لیکن اگر میں یہی فضیلت نبی کی بجائے اس