حیات قدسی — Page 299
۲۹۹ بظاہر صحت مند معلوم ہوتی ہے لیکن سالہا سال سے اس کو ماہواری کا خون نہیں آتا۔میں اس کا علاج کراتے کراتے تھک گیا ہوں۔آپ میری اہلیہ کے لئے کوئی نسخہ تجویز کریں۔میں نے کہا کہ آپ میرے ساتھ چلیں۔چنانچہ باہر جنگل میں میں نے ان کو ایک جڑی بوٹی دکھائی جس کا نام ہاتھی سونڈی“ اور ” خرطومی ہے۔اور پنجاب کے بعض حصوں میں اس کو بھسر ا بھی کہتے ہیں۔میں نے کہا کہ اس بوٹی کی دو پھلیاں صبح اور دو بعد عصر پانی میں کھرل کر کے مریضہ کو پلائیں۔امید ہے کہ شافی مطلق اپنا فضل فرما دے گا۔انہوں نے تین چار دن اس بوٹی کو استعمال کرایا تو ان کی بیوی کا حیض اللہ تعالیٰ کے فضل سے جاری ہو گیا۔وہ خوشی خوشی میرے پاس آئے اور کہنے لگے کہ آپ نے میرا ایک دھیلہ بھی خرچ نہیں کرایا اور کامیاب علاج کر دیا۔حالانکہ میں نے پوری توجہ اور شفقت سے دس سال تک علاج کیا اور بہت سا روپیہ خرچ کیا۔لیکن کامیابی نہ ہوئی۔میں نے کہا یہ محض اللہ تعالیٰ کا فضل ہے۔کہ اس نے ایک معمولی سی بوٹی میں برکت رکھ دی۔فالحمد للہ علی ذالک الْاثْمُ مَا حَاكَ فِي صَدْرِكَ ایک دن میری نظر اتفاقا حکیم صاحب کے بائیں بازو پر پڑی۔جو بہت لاغر اور کمزور معلوم ہوتا تھا۔میرے دریافت کرنے پر کہ یہ باز و کسی حادثہ کا شکار ہوا ہے۔انہوں نے بتایا کہ مجھے ضلع جھنگ کے ایک انگریز افسر نے اپنی دولڑکیوں کو اردو پڑھانے پر مقرر کیا۔میرا بندوق کا نشانہ اچھا تھا۔اور شکار کا بھی شوق تھا۔ایک دفعہ صاحب بہادر نے مجھے کہا کہ آپ میری لڑکیوں کو بندوق چلانا بھی سکھا ئیں۔چنانچہ میں نے نشانہ کی مشق شروع کرا دی۔ایک دن ہم باہر شکار کے لئے گئے۔تو قمریوں کا ایک جوڑا درخت پر بیٹھا ہوادیکھا۔دونوں پرندے اس وقت آپس میں اظہار محبت کر رہے تھے۔میں نے چاہا کہ ان پر بندوق سے فائر کروں لیکن ضمیر نے ملامت کی کہ اس حالت میں ان پر فائر کر کے ان کے عیش کو برباد کرنا درست نہیں۔چنانچہ میں اپنے ارادہ سے باز آ گیا۔لیکن ان دونوں لڑکیوں نے مجھے فائر کرنے کے لئے کہا۔میں نے باوجود انقباض خاطر کے ان لڑکیوں کے مجبور کرنے پر فائر کر دیا۔جس سے ایک قمری تو زخمی ہو کر نیچے گر پڑی اور دوسری اُڑ گئی۔لڑکیاں تو اس شکار سے بہت خوش ہوئیں لیکن مجھے بہت دکھ ہوا اور میری ضمیر بار بار مجھے ملامت کرنے لگی۔