حیات قدسی — Page 289
۲۸۹ حضور ایدہ اللہ تعالیٰ کے متعلق میں نے بارہا دیکھا ہے کہ ادھر حضور کی خدمت میں دعا کے لئے لکھا گیا۔اور اُدھر قدرت کی طرف سے اسباب مخالفہ کو اسباب موافقہ میں تبدیل کر دیا گیا۔نرینہ اولاد اللہ تعالیٰ کے فضل سے جب مجھے چلنے پھرنے کی طاقت حاصل ہوگئی تو میں نے مکرم سید محد شاہ صاحب اور ان کی اہلیہ مکرمہ کے احسانات کے پیش نظر ان دونوں کی خدمت میں عرض کیا کہ مجھے اپنا کوئی مقصد بتائیں جس کے لئے میں خدا تعالیٰ کے حضور دعا کروں۔اس پر انہوں نے کہا کہ اب تک ہمارے ہاں چار لڑکیاں پیدا ہوئی ہیں۔لیکن نرینہ اولاد کوئی نہیں۔ہماری آرزو ہے کہ خدا تعالیٰ ہمیں نرینہ اولاد سے نوازے۔میں نے ان کے احسانات کی وجہ سے دعا کے لئے خاص جوش محسوس کیا۔اور کہا کہ آئیے سب مل کر دعا کر لیں۔جب میں نے دعا کی تو میں نے اللہ تعالیٰ کی طرف سے بشارت محسوس کی اور ان کو اطلاع دے دی۔چنا نچہ اللہ تعالیٰ نے اپنے فضل و احسان سے ان کو نرینہ اولا د عطا فرمائی اور اب ان کے لڑکے جوان اور برسر روزگار ہیں۔اور میں بہت خوش ہوں کہ میرے محسنوں کو اللہ تعالیٰ نے ان کے مقصد میں کامیاب فرمایا ہے۔فالحمد للہ علی ذالک دیگر ۱۹۴۳ء کا واقعہ ہے کہ میں تپ محرقہ سے سخت بیمار ہو گیا۔اور علاج کے باوجود بخار میں دن بدن زیادتی ہوتی گئی۔ایک ماہ گذرنے کے باوجود میرا بخار نہ اترا۔بخار کے ساتھ اسہال بھی شروع ہو گئے۔اور ضعف اور کمزوری کی وجہ سے میں اکثر بے ہوش رہتا۔یہاں تک کہ ایک دن غلطی سے میری موت کی افواہ بھی شہر میں پھیل گئی۔حضرت میر محمد اسحاق صاحب رضی اللہ تعالیٰ عنہ وارضاہ نے جب میری حالتِ نازک دیکھی تو آپ سید نا حضرت خلیفۃ المسیح الثانی ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کے حضور ڈلہوزی پہنچے اور اس حقیر خادم کے لئے درخواست دعا کی۔حضور ایدہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ ہم سب مولوی صاحب کی صحت کے لئے دعائیں کر رہے ہیں۔