حیات قدسی — Page 15
۱۵ جگہ دعوتِ طعام تھی وہاں جانے سے معذرت کر دی اور عشاء کی نماز پڑھ کر مسجد میں ہی سو گیا۔رات کو میں نے خواب میں دیکھا کہ میں پرواز کرتے کرتے سات آسمانوں سے بھی اوپر ایک ایسے مقام پر پہنچا ہوں جس کے متعلق مجھے محسوس کرایا گیا کہ یہ مقام لا مکان ہے اور اس وقت میں یہ بھی محسوس کر رہا ہوں کہ میری اس پرواز کی جائے فراز عین بغداد شریف کے محاذ میں واقع ہے اور حضرت سید عبدالقادر صاحب جیلانی بنفس نفیس بغداد میں موجود ہیں۔چنانچہ میں اسی وقت ان کی زیارت کے خیال سے بغداد میں اُترا اور ان کی خدمت میں حاضر ہوا۔آپ اس وقت ایک پلنگ پر مشرق کی طرف منہ کئے ہوئے جلوہ فرما تھے جس پر نہایت ہی خوبصورت بچھونا لگا ہوا تھا۔جب میں آپ کے پلنگ سے نیچے پاپوش کی جگہ پر بیٹھ گیا تو آپ نے دونو ہاتھ میری پشت پر رکھے اور فرمایا پڑھ حَق سبحانُهُ سُبْحَانَ نُورُهُ اور اُڑ جا۔چنانچہ میں نے حسب ارشاد حق سبحانہ سبحان ٹورہ پڑھتے ہوئے دوبارہ پرواز شروع کر دی اور اُڑتا ہوا مشرق کی طرف چلا گیا۔اس خواب میں تعبیر پرواز تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشادگرامی الصلوة معراج المومن 1 سے ظاہر ہی ہے مگر اس کے بعد حضرت سید عبد القادر جیلانی علیہ الرحمۃ کا حق سبحانہ سبحان نورہ پڑھا کر دوبارہ پرواز کا حکم دینا اور میرا اُڑتے ہوئے مشرق کی طرف چلے جانا اس امر کی طرف اشارہ کرتا ہے کہ میری روحانی تکمیل کے لئے مجھے وہ قادر و توانا خدا اپنے جمال و جلال کی ایک ایسی جلوہ گاہ نصیب فرمائے گا جو اپنی ضوفشانی اور جائے وقوع کے لحاظ سے بغداد سے مشرق کی طرف واقع ہو گی۔چنانچہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے اس ارشاد گرامی کے مطابق کہ از کلمه مناره شرقی عجب مدار چون خود به مشرق است تجلی نیرم مجھے مشرق کی طرف سے خدا تعالیٰ نے اس فیضان نبوت سے مستفیض فرمایا جو افاضات ولائت سے کہیں بڑھ کر تھا۔الحمد للہ علی ذالک۔حضرت مولانا روم علیہ الرحمۃ سے استفادہ میں جن ایام میں موضع گولیکی میں مولنا امام الدین صاحب سے مثنوی مولانا روم پڑھا کرتا تھا۔