حیات قدسی — Page 250
۲۵۰ ان گمراه شده افراد جماعت کو واپس کھینچ کر لائے گا۔چنانچہ اللہ تعالیٰ کے فضل سے میں نے وہ نظارہ بھی دیکھ لیا کہ خود غیر مبائعین کے امیرا رستمبر ۱۹۴۹ء کے اخبار پیغام صلح میں اپنے ۵ فی صدی اور سبائعین کے ۹۵ فی صدی کا اقرار کرنے پر مجبور ہو گئے۔اور اللہ تعالیٰ نے اپنے موعود خلیفہ اور المصلح الموعود کو نمایاں فتح اور کامیابی عطا فرمائی۔اور اپنے اس وعدے کے مطابق جو آپ کے ابتدائے زمانہ خلافت میں دیا تھا ان کو ممزق اور ٹکڑے ٹکڑے کر دیا۔فالحمد للہ علی ذالک ایک کشفی منظر جن دنوں خواجہ کمال الدین صاحب ابھی لنڈن میں تھے اور میں لاہور میں مقیم تھا۔خواجہ صاحب کے متعلق ڈاکٹر عباد اللہ صاحب امرتسری اور محمد علی صاحب باورچی کے ذریعہ بہت سی نا گفتنی اور ناشنیدنی باتیں سید نا حضرت خلیفۃ المسیح الاول رضی اللہ عنہ کی خدمت میں پہنچائی گئیں۔میں نے ان ایام میں ایک عجیب کشفی نظارہ دیکھا۔اس نظارہ میں ایک ہی وقت میں اپنے آپ کو لاہور میں بھی اور لنڈن میں بھی دیکھتا ہوں۔(ایسے کشفی مناظر ) روحانی دنیا میں دیکھے جاتے ہے ہیں۔جو شاید مادی عقول کے ادراک میں نہ آسکیں اور میری نظر بھی لاہور سے لنڈن تک پھیلی ہوئی ہے لنڈن میں جہاں خواجہ کمال الدین صاحب ہیں میں ان کے قریب ہی ہوں خواجہ صاحب اس وقت مجھے بالکل برہنگی اور مادر زاد عریانی کی حالت میں نظر آتے ہیں۔آپ کے بدن پر کوئی کپڑا نہیں سوائے ایک ٹکٹائی کے جو گلے میں لٹکی ہوئی ہے۔اس وقت خواجہ صاحب شمال کی طرف منہ کر کے رکوع کی حالت میں ہیں۔میں ان کو اس حالت میں دیکھ کر بہت افسوس کرتا ہوں اور کہتا ہوں کہ اگر چہ آپ نے ابھی یورپ کو سجدہ نہیں کیا۔لیکن آپ رکوع کی حالت تک تو یورپ کی طرف جھک گئے ہیں اور جو تقویٰ کا لباس آپ کے وجود پر تھا اس سے عاری ہو چکے ہیں اس کے بعد یہ نظارہ بدل گیا۔ایک دوسرا کشفی منظر اس کے بعد ایک اور نظارہ میں نے اس طرح دیکھا کہ شمالاً جنوبا ایک بہت بڑی سڑک ہے جس کے دونوں جانب اونچے اونچے درخت لگے ہوئے ہیں اور اس سڑک کی مغربی جانب بڑے فربہ اونٹ ہیں ان اونٹوں کا قد وقامت عام اونٹوں سے بہت بڑا معلوم ہوتا ہے۔ان اونٹوں کی مشرقی