حیات قدسی — Page 239
۲۳۹ پر خاص کیفیت طاری ہو جاتی ہے۔حضرت اقدس علیہ السلام کے زمانہ میں حضور کی معیت میں قادیان میں شاید ہی کوئی نماز پڑھی ہو گی جو رقتِ قلب اور اشکبار آنکھوں سے ادا نہ کی گئی ہو۔علاوہ اس کے دعا کرنے پر جواب بھی فورا مل جاتا۔خواہ رات کو رڈیا کے ذریعہ یا کشفی طور پر یا بذریعہ الہام کے۔سلام کا تحفہ میں نے نماز کی حالت میں بھی کشفی نظارے دیکھے ہیں ایک دفعہ جب میں التحیات پڑھ رہا تھا تو جب میں نے السلام علیک ایھا النبی ورحمۃ اللہ وبرکاتہ پڑھا۔تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کشفاً میرے سامنے متمثل ہو گئے۔اور میرا یہ سلام اور رحمت کا تحفہ پھولوں کا ہار بن کر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے گلے میں جا پڑا۔اور پھر حضرت سرور کائنات صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے ایک ہار آ کر میرے گلے میں پڑا اسی طرح یہ سلسلہ دیر تک جاری رہا۔پھر جب کشفی حالت جاتی رہی تو میں نے تشھد اور باقی ادعیہ متعلق قعدہ پڑھیں اور آخری سلام پھیرا۔اس زمانہ میں اکثر دعائیں قبولیت کا شرف حاصل کرتی تھیں اور ان کے قبول ہونے یا نہ ہونے کے متعلق قبل از وقت اطلاعات ملتی تھیں۔اور جب سیدنا حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے متعلق کوئی غیرت نما موقع پیش آتا تو اللہ تعالیٰ کی طرف سے فوراً اس کی جلالی شان اپنا جلوہ دکھاتی۔ان فیوض کا سلسلہ تو اب بھی بند نہیں۔لیکن نبوت پھر بھی نبوت ہی ہے اور خلافت خلافت ہے ہاں خلافت ثانیہ کا زمانہ بھی اپنی شان اور برکت میں زمانہ نبوت کے بہت حد تک مشابہ ہے۔اور وہ لوگ بہت ہی مبارک ہیں جن کو اس عہد سعادت میں سلسلہ حقہ کی خدمات انجام دینے کا موقع ملا ہے۔کلام قدسی نکته سر ازل بجلوه اعلیٰ و اجل برق ہستی کی چمک سے جبکہ کچھ پیدا نہ تھا اے خدا تیرے سوا سر ازل اصلا نہ تھا