حیات قدسی — Page 234
۲۳۴ ہو سکتے صحیح مسلم میں بھی آیا ہے کہ انا آخِرُ الْأَنْبِيَاءِ وَمَسْجِدِى هَذَا آخِرُ الْمَسَاجِدِ یعنی میں نبیوں میں آخری نبی ہوں اور میری مسجد آخری مسجد ہے لہذا جب آنحضرت آخری نبی ہیں تو آپ کے بعد کوئی نبی نہیں آسکتا۔میں نے اپنی بعد کی تقریروں میں ان باتوں کا مفصل جواب دیا اور بتایا کہ مولوی صاحب نے میرے دلائل کو جو وفات مسیح کے متعلق میں نے پیش کئے ہیں چھوا تک نہیں اور نہ ہی انبیاء کی صداقت کے معیاروں کی جو میں نے پیش کئے ہیں، تردید کی ہے۔جس سے ثابت ہوا کہ مولوی صاحب کے نزدیک بھی حضرت عیسی وفات پاچکے ہیں اور اگر حضرت مسیح علیہ السلام فوت ہو چکے ہیں تو تمام کتب حدیث میں جو وعدہ مسیح کی آمد کا ہے اور مسیح موعود نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا نائب اور خلیفہ ہو کر آنا ہے اس کا کیا مطلب ہے اور جب آنے والے مسیح موعود کو اسی صحیح مسلم میں چار دفعہ نبی اللہ کے الفاظ سے ذکر کیا گیا ہے تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد منصب نبوت سے انکار کس طرح کیا جا سکتا ہے۔لہذا ثابت ہوتا ہے کہ آنحضرت کے بعد آپ کی اتباع میں احکام شریعت کی ترویج واشاعت کے لئے نبی آ سکتا ہے ہاں دجال وہ ہوگا جو ناسخ شریعت ہونے کا دعویٰ کرے یا امت محمدیہ سے باہر ہو کر بغیر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے افاضہ روحانیہ کے نبی ہونے کا مدعی ہو۔باقی رہا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشاد انا آخر الانبیاء تو اس سے مراد شریعت لانے والے انبیاء میں سے آخری نبی کے ہیں اور ان الفاظ کی تشریح حدیث کے دوسرے حصہ سے ہوتی ہے جس میں آنحضرت نے فرمایا و مسجدى هذا آخر المساجد یعنی میری مسجد آخری مسجد ہے جس طرح آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی مسجد کے آخر المساجد ہونے کے باوجود ہزار ہا مساجد اس کے بعد اسلام میں بنائی گئی ہیں۔اور آئندہ بھی قیامت تک بنائی جائیں گی کیونکہ یہ مساجد آنحضرت کی مسجد کے منشاء اور طریق کے خلاف نہیں بلکہ اس کی نیابت اور نمونہ پر ہیں۔اسی طرح آنحضرت کے آخر الانبیاء ہونے کے باوجود آپ کی نیابت میں اور آپ کے افاضہ روحانی سے مستفیض ہو کر مقام نبوت حاصل ہو سکتا ہے اور ایسے امتی نبی کا ہونا آنحضرت کے آخر الانبیاء ہونے کے منافی نہیں اور یہی صحیح معنے ہیں جو ائمہ اسلام نے بیان کئے ہیں۔چنانچہ میں نے امام محمد طاہر حضرت شاہ ولی اللہ صاحب کا حضرت عبد القادر جیلانی حضرت محی الدین ابن عربی حضرت ملاعلی قاری کے اقوال اور بیانات کے