حیات قدسی — Page 221
۲۲۱ سارے خوبوں سے ہے تو ہی خوب تر اور محبوبوں سے سے ہے محبوب تر عشق تیرا جان کی اک جان ہے اس سے ہی ایمان اور ایقان ہے سے اپنا ہمیں عرفاں بخش اور اپنے عشق کا ایقان بخش فضل اپنی رضا عشق سے ہوتے رہیں تجھ پر فدا جو رضا تیری ہو، ہو اور دنیا میں کہیں آباد ہو جو میری اولاد اولاد در ہو وہ عشق سے تیرے رہیں سرشار وہ اور دیں کے ہوں علمبردار ہر طرف وہ دین پھیلاتے رہیں لوگوں کو تیری طرف لاتے رہیں بخش ان کو دولت و اقبال بھی دین و دنیا میں ہوں مالا مال بھی تیرے فضلوں سے بنیں ممتاز سب صاحب مجدد علا اعزاز سب سارے خادم ہوں تیری سرکار کے اور مالی ہوں تیرے گلزار کے سارے ہی احمد نبی پر ہوں شار آل احمد سے رہے سب ہے ہدایت اور ایماں کا نشاں آل احمد سے محبت جاوداں۔کا پیار جب جماعت میں کبھی ہو اختلاف میرے بچو مجھ سے سن لو صاف صاف آل احمد سے وہ مل جائیں سبھی اس سے گمراہی نہ پائیں گے کبھی عمل کرنا اسی پر بہتری یہی میری وصیت آخری ہے یاد رکھنا تفرقہ ہو جب عیاں ہے خلافت ہی ہدایت کا نشاں آل احمد اور خلافت ہو جدھر میری اولاد ہو جائے ادھر ہے ہدایت کا یہی معیار ایک میرے پیارے اس سے ہونگے پاک و نیک ہوتا ہوں رخصت پیارو آپ یاد رکھنا بات اپنے باپ سے سانیوں سے حفاظت کی دعا اسی طرح سیدنا حضرت اقدس مسیح موعود کے عہد سعادت میں ایک دفعہ جب یہ خاکسار بھی حضور کی بارگاہ قدس میں حاضر تھا تو حضور اقدس کی خدمت میں افریقہ کے بعض احمدی احباب کا