حیات قدسی — Page 222
۲۲۲ مکتوب پہنچا۔جس میں یہ ذکر تھا کہ جس خطہ میں ہم بود و باش رکھتے ہیں وہاں پر سانپوں کی بہت کثرت ہے جس کے باعث تکلیف کا سامنا ہے۔اور ہر وقت خطرہ لاحق رہتا ہے اس کے لئے حضور کی خدمت میں درخواست دعا ہے اور یہ بھی عرض ہے کہ اس خطرہ سے حفاظت میں رہنے کے لئے کوئی دعا یا وظیفہ تحریر فرمایا جائے۔اس درخواست کے جواب میں میرے سامنے حضور اقدس نے حضرت مولوی عبدالکریم صاحب کو فرمایا کہ انہیں لکھ دیا جائے کہ دونو قل، یعنی قرآن کریم کی آخری سورتیں صبح وشام پڑھ لیا کریں۔یہ دونوں سورتیں اللہ تعالیٰ کے فضل سے باعث حرز و حفاظت ہوں گی (حضور کے الفاظ کا مفہوم عرض کیا گیا ہے) چنانچہ خدا تعالیٰ کے فضل سے اس دعائیہ وظیفہ سے جماعت کے وہ احباب خطرہ سے مصون رہے اور بہت سے دوسرے احباب نے بھی اس وظیفہ سے فائدہ اٹھایا ہے اور اب تک اٹھا ر ہے ہیں۔فالحمد للہ علی ذالک مالی مشکلات سے نجات ایک دفعہ خاکسار اور مولوی عبداللہ صاحب سنوری رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو قادیان دارالامان میں اکٹھا رہنے کا موقع ملا۔ایک دن دوران گفتگو میں نے عرض کیا کہ آپ سید نا حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام کا کوئی خاص واقعہ بتا ئیں۔حضرت مولوی صاحب نے حضرت اقدس کی خاص برکات کا ایک واقعہ سنایا۔آپ نے بیان کیا کہ میں ایک عرصہ تک مالی مشکلات میں مبتلا رہا اور کئی ہزار روپے کا مقروض ہو گیا۔میں نے مالی مشکلات سے گھبرا کر بے چینی کی حالت میں حضرت اقدس علیہ السلام کے حضور نہایت عاجزی سے اپنی مالی مشکلات کے ازالہ کے لئے درخواست دعا کی۔اس پر حضور اقدس نے فرمایا میاں عبداللہ ! ہم بھی انشاء اللہ آپ کے لئے دعا کریں گے لیکن آپ اس طرح کریں کہ فرضوں کی نماز کے بعد گیارہ دفعہ لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللَّهِ العَلِي الْعَظِيمِ کا وظیفہ جاری رکھیں۔چنانچہ حضور اقدس کے ارشاد کے مطابق میں نے کچھ عرصہ اس وظیفہ کو جاری رکھا اور خود حضور نے بھی دعا فرمائی۔خدا کے فضل سے تھوڑے ہی عرصہ میں میرا سب قرض اتر گیا۔اس کے بعد جب کبھی بھی مجھے مالی پریشانی ہوتی ہے تو میں یہی وظیفہ کرتا ہوں۔یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ میرے لئے کشائش کے سامان پیدا فرما دیتا ہے۔یہ وظیفہ میں نے بارہا پڑھا ہے اور اس سے بہت فائدہ ، اٹھایا ہے۔