حیات قدسی — Page 219
۲۱۹ آ رہے ہیں۔یقیناً یہ آپ کی تو ہین اور آپ کے متعلق درشت کلامی کا نتیجہ ہے جو مجھ نا لائق اور عاصی سے سرزد ہوئی۔آپ خدا کے واسطے مجھے معاف فرما ئیں اور میرے حق میں دعا فرمائیں۔اس کے بعد قادیان مقدس میں بھی آئے اور مجھ سے نہایت عاجزانہ طور پر معافی اور درخواست دعا کے میجی ہوئے۔میں نے ان کو کہا کہ میں تو آسمانی سرکار کا ایک حقیر خادم ہوں۔آپ اللہ تعالیٰ کے اور اس کے پاک خلیفہ حضرت امیر المومنین ایدہ اللہ تعالیٰ سے معافی طلب کریں اور ان کو راضی کریں تا کہ اللہ تعالیٰ بھی آپ کو معاف فرما دے۔چنانچہ انہوں نے حضور اقدس ایدہ اللہ تعالیٰ کے حضور بار بار معافی اور دعا کے لئے عرض کیا اور مجھے بھی متواتر توجہ دلاتے رہے۔ان کی بار بار کی عاجزی اور انکساری سے اور اس خیال سے کہ ان کا ابتلاء اور مصائب شماتت اعداء کا باعث بن رہے ہیں اور جماعتی بدنامی کا موجب ہو گئے ہیں۔میرا دل رقت اور درد سے بھر گیا اور میں نے خدا تعالیٰ کے حضور ان کی غلطی کی معافی اور ان کو ورطہ مصائب سے نجات بخشنے کے لئے بہت دعا کی۔رویت باری تعالیٰ ایک رات جب میں اسی طرح دعا کرتا ہوا سویا تو مجھے اللہ تعالیٰ کی زیارت نصیب ہوئی اور میں نے دیکھا کہ اللہ تعالیٰ ایک اجتماع عظیم کے سامنے ایک بہت بڑے تخت پر جلوہ فرہ ہیں۔میں اس مجمع میں انسپکٹر صاحب موصوف کو لے کر اس غرض کے لئے چلا ہوں کہ اللہ تعالیٰ ان کی غلطی کو معاف فرما دیں۔جب میں اور انسپکٹر صاحب اللہ تعالیٰ کے قریب پہنچے تو حضرت رب العالمین نے ہمیں دیکھ لیا اور حاضر ہونے کی غرض بھی معلوم کر لی اور بلند آواز سے مجھے مخاطب کر کے فرمایا کہ اس کی خطا کی اس کو صورت میں معافی ہو سکتی ہے کہ وہ ان الفاظ میں ہم سے معافی طلب کرے پھر جو الفاظ اللہ تعالیٰ نے تمام مجمع کے سامنے فرمائے اور سب نے سنے وہ مندرجہ ذیل تھے :۔(۱) ''اے خدا تجھے تیری رحمت کا واسطہ ہے جس کی تحریک سے تو نے اپنے نبیوں اور رسولوں کو بھیجا تا وہ لوگوں کو تیرے فیض سے مستفیض ہونے کے لئے دعوت دیں تو مجھے معاف فرما پھر دوسری دفعہ پہلے فقرہ کے بعد یوں فرمایا :۔(۲) اے خدا تیری اس رحمت کا واسطہ ہے کہ جس نے تجھے اس بات کا مستحق بنایا ہے کہ