حیات قدسی — Page 216
۲۱۶ عادت ابھی تک پائی جاتی ہے اور اس کی اصلاح ضروری ہے۔چونکہ امیر جماعت محکمہ پولیس کے ایک ہوشیار افسر بھی تھے انہوں نے اپنی حکمت عملی سے یا کسی خیال سے جس کی تہ میں ممکن ہے نیکی ہو۔ایک دن اتوار کو مجھے دعوت پر بلایا جب کھانا کھا چکے تو انہوں نے سلسلہ کلام کا رخ مرکز سلسلہ کے افسران اور کارکنان کے خلاف پھیرا اور وہ تمام شکایات جو میں بعض دوستوں کی زبانی ان کے متعلق سن چکا تھا۔انہوں نے دہرانی شروع کر دیں۔میں نے ان کو درمیان میں روکنا پسند نہ کیا تا کہ وہ اپنے دل کا غبار نکال لیں۔چنانچہ جب وہ سب کچھ کہہ چکے تو میں نے ان کو بطور ہمدردی اور خیر اندیشی سے کہا کہ آپ ایسے خیالات سے بچے دل سے توبہ کریں اس قسم کی بدظنیاں انسان کے ایمان کو فنا کر دیتی ہیں اور غیر مبائعین کا بد انجام بھی اسی وجہ سے ہوا ہے۔گو آپ اپنے پیشہ کی وجہ سے اور لمبے عرصہ تک محکمہ پولیس کی ملازمت کی وجہ سے اپنی عادت تجسس اور بدظنی کی بنا چکے ہیں اور آپ کے محکمہ کا کام اسی تجسس اور شبہ پر چلتا ہے۔لیکن شریعت حقہ حسن ظنی کی تعلیم دیتی ہے اور بدظنی کو تقویٰ کے خلاف قرار دیتی ہے۔۔بدظنی کے متعلق ایک واقعہ چنانچہ میں نے اپنے بیان کی تشریح میں یہ واقعہ بھی عرض کیا کہ ایک دفعہ ماہ رمضان میں ایک روزہ دار شخص باہر سے کام کر کے آیا اور شدت بھوک اور پیاس کی وجہ سے کھانا کھانے بیٹھ گیا۔اس کے نے بھول کر کھانا بھی کھایا اور پانی بھی پیا اور اسے روزہ کا مطلق خیال نہ آیا۔اس کو اس حالت میں بعض دوسرے اشخاص نے دیکھ کر لوگوں میں مشہور کرنا شروع کر دیا کہ فلاں شخص روزے نہیں رکھتا۔بعض اور لوگوں نے جو اس کے اخلاص اور پابندی شریعت کو جانتے تھے اس کی تردید کی اور کہا کہ وہ روزے رکھتا ہے اور آج بھی اس نے روزہ رکھا ہوا تھا اس کے جواب میں ان معترضین نے قسمیں کھا ئیں کہ ہم نے اس کو خود دن کے وقت کھانا کھاتے اور پانی پیتے دیکھا ہے۔وہ آج قطعا روزه دار نہ تھا۔یہ تکرار اور شور و غوغا سن کر بعض لوگ مسجد میں امام صاحب کے پاس پہنچے اور متنازعہ امر کا ذکر کیا ابھی وہ اس بات کو بیان ہی کر رہے تھے کہ وہی شخص جس کے روزہ دار ہونے یا نہ ہونے کے متعلق بحث ہو رہی تھی اتفاق سے مسجد میں آگیا اور مسجد کے امام کی خدمت میں عرض کرنے لگا کہ میں ایک مسئلہ دریافت کرنے آیا ہوں میں خدا کے فضل سے روزے رکھتا ہوں اور آج بھی روزے سے تھا۔