حیات قدسی

by Other Authors

Page 211 of 688

حیات قدسی — Page 211

۲۱۱ ہے؟ میں نے کہا کہ چلئے ! آپ کو دکھاؤں۔اس کے بعد میں نے اور اس دوسرے شخص نے پرواز کرنا شروع کر دیا۔یہاں تک کہ ہم آسمانوں سے گذر کر عرش الہی کی نچلی سطح کے سامنے پہنچ گئے۔جب ہم نے نیچے سے عرش کو دیکھا تو اس کا رنگ شفق کی طرح بالکل سرخ تھا۔اس سرخی کو دیکھ کر اللہ تعالیٰ کی ر عظمت شان اور جلال ظاہر ہوتا تھا۔اس کے بعد دل میں یہ خواہش پیدا ہوئی کہ اب عرش الہی کو اوپر سے دیکھا جائے جب ہم نے یہ ارادہ کیا تو معاً ہمیں یہ نظر آیا کہ ہم عرش کے اوپر کے ایک کنارہ پر کھڑے ہیں۔اور ہمارے سامنے عرش کے وسط میں ایک قبہ نور کا نظر آتا ہے جس سے سورج سے بھی بڑھ کر روشن شعائیں نکل رہی ہیں اور جلال اور عظمت نمایاں ہوتی ہے۔ہمارے دل میں اس وقت ڈالا گیا کہ یہ نورانی قبہ اللہ تعالیٰ ہے جو جلوہ نما ہو رہا ہے۔میں نے اپنے ساتھی کو کہا کہ اللہ تعالیٰ کو اور قریب سے دیکھنا چاہیئے وہ شخص تو کنارے پر ٹھہر گیا۔لیکن میں اللہ تعالیٰ کے قریب پہنچنے کے ارادہ سے آگے بڑھا۔جب میں نے زیادہ قریب ہو کر دیکھا تو اللہ تعالیٰ کو حضرت سید نا محمو د ایدہ اللہ بنصرہ العزیز کے تمثل میں جلوہ نما دیکھا۔اس وقت مجھے یہ یقین ہو گیا کہ اس زمانہ میں آسمانی حکومت کا نمائندہ اور دنیا کا فرداعظم جو خدا تعالیٰ کا مظہر ہے وہ سیدنا حضرت محمود ایدہ اللہ الودود ہیں۔خدا تعالیٰ اس مقدس وجود پر اپنی رحمتوں اور برکتوں کا ہر آن نزول فرماتا رہے اور اس کے مقاصد عالیہ میں اس کو فائز المرام کرے۔آمین (۶) رؤیت الہی اور تاجپوشی سیدنا حضرت خلیفۃ المسیح اول رضی اللہ تعالیٰ عنہ وارضاہ کما سحب ويرضی نے جب مجھے لاہور کی احمدی جماعت کی تربیت و اصلاح اور تبلیغ کی غرض سے وہاں مقرر کیا تو میں نے ایک رات کو خواب میں دیکھا کہ میری تاجپوشی کے لئے ایک بہت بڑا اجتماع ہوا ہے۔جیسے کہ جشن کے موقع پر ہوتا ہے۔اس مجمع میں اسٹیج پر میرے سب سے زیادہ قریب حضرت شیخ یعقوب علی صاحب عرفانی مدیر اخبار الحکم ہیں اور صرف وہی اس مجمع میں میری شناخت میں آئے ہیں اور انہوں نے میری طرف اشارہ کر کے اعلان کیا ہے کہ یہ مجمع ان کی تاجپوشی کے لئے بطور جشن منانے کے ہے۔اس کے بعد