حیات قدسی

by Other Authors

Page 208 of 688

حیات قدسی — Page 208

۲۰۸ سکوت کا روزہ رکھا ہوا ہے۔ان ایام میں صرف بعض تیمار دار دوست کھانے اور دوا اور مالش کرنے کے لئے خاموشی سے آتے اور کوئی بات قابل اظہار ہوتی تو میں بذریعہ تحریر اس کا اظہار کر دیتا۔عزیزم مولوی ظفر الاسلام صاحب ان دنوں مجھے با قاعدہ مالش کرتے تھے۔خدا تعالیٰ ان سب کو جزائے خیر دے۔شہد کا تحفہ اسی بیماری کے ایام میں حکیم غلام محمد صاحب امرتسری جو حکیم قطب دین صاحب کی طرح حضرت حکیم الامۃ کے پاس بطور کمپونڈ ر خدمات بجا لاتے تھے۔مجھے دوائی پلانے کے لئے با قاعدہ آتے۔ایک دن آپ تشریف لائے تو ایک بہت بڑی بوتل جو طوطے کی طرح سبز رنگ کی شہد سے بھری ہوئی تھی میرے لئے لائے اور کہا کہ نجیب آباد سے ایک دوست تین بوتلیں سبز رنگ کے شہد کی سید نا حضرت خلیفۃ المسیح کے حضور تحفہ لایا تھا اور اس نے بتایا تھا کہ یہ شہد نیم کے درختوں پر سے اتاری گئی ہے۔حضرت نے فرمایا کہ یہ شہد مولوی راجیکی صاحب کے لئے مفید ہے اور آپ کے لئے بھجوا دی۔میں نے یہ شہد استعمال کیا اس کا ذائقہ کسی قدرتیخی لئے ہوئے تھا۔اس کے استعمال سے بھی مجھے کسی قدر فائدہ ہوا۔جب میں نے تمہیں روزے سکوت کے ختم کر لئے تو میں نے اعلان کیا کہ میں فلاں وقت مسجد اقصیٰ میں اپنے صوم سکوت کو سورۃ فاتحہ کی تلاوت سے افطار کروں گا۔چنانچہ میں نے وقت مقررہ پر مسجد اقصیٰ میں سورۃ فاتحہ کی تفسیر پر تقریر کی۔اسی رات مجھے ایک فرشتہ ملا اور اس نے بتایا کہ میرا نام محمود ہے اور میں آپ کو دوائی بتانے آیا ہوں اور وہ یہ کہ آپ کمونی کا استعمال کیا کریں۔میں نے دوسرے دن حضرت خلیفۃ المسیح اول رضی اللہ عنہ کے حضور اپنی رؤیا کا ذکر کیا۔حضور نے تبسم فرمایا اور ارشاد فرمایا کہ اب تک جو علاج ہم نے کیا ہے معلوم ہوتا ہے کہ وہ صحیح عمل معائبہ نہ تھا۔آپ کی اس رویا سے ہمیں معلوم ہوا ہے کہ فرشتہ کا کمونی بتانا اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ کمونی جس مرض کا علاج ہے اس مرض کے متعلق توجہ کی جائے ایسا علاج انشاء اللہ مفید اور قابل تعریف ہوگا ( محمود ) ہوگا۔چنانچہ حضرت نے قرابا دین قادری منگوا کر کمونی کے نسخے دیکھے اور ان میں سے ایک نسخہ تجویز