حیات قدسی — Page 205
۲۰۵ 66 سنگلوں کو دور پھینک دیا ہے۔پھر اللہ تعالیٰ نے دوشیشیاں لے کر ایک شیشی میرے پیٹ پر ناف کی ایک جانب لگا دی جس کا ایک حصہ میرے پیٹ کے اندر معلوم ہوتا ہے اور دوسری شیشی میرے گلے کی ہنسلی کے پاس لگا دی۔مجھے اس وقت یہ احساس ہوتا ہے کہ اگر ہنسلی والی شیشی منہ میں لگا دی جاتی تو زیادہ مناسب ہوتا۔ایک اور نظارہ اس کے معابعد نظارہ بدلا اور میں نے اپنے تئیں قادیان مقدس کی مسجد اقصیٰ میں دیکھا اور میں نے دیکھا کہ حضرت سید نا محمود ایدہ اللہ الود و د کھڑے ہو کر مسجد میں قرآن کریم کا درس دے رہے ہیں۔میں نے کشف میں ہی حضرت کے حضور جزائر انڈیمان کا تمام واقعہ جو میں نے دیکھا تھا عرض کیا۔جب میں نے شیشیاں لگانے کا واقعہ بیان کیا اور یہ کہا کہ اگر ہنسلی کے قریب والی شیشی منہ میں لگا دی جاتی تو زیادہ اچھا ہوتا تو سید نامحمود ایدہ اللہ نے اس شیشی کو جو ہنسلی کے قریب لگی ہوئی تھی وہاں سے نکال کر میرے منہ میں لگایا اس کے بعد میری کشفی حالت جاتی رہی اور میں نے دیکھا کہ میں چار پائی پر نماز میں مصروف ہوں۔قادیان میں علاج اس کے چند دن بعد پیر کوٹ میں سیدنا حضرت خلیفۃ المسیح اول رضی اللہ تعالیٰ عنہ وارضاه کا خط مجھے ملا۔جس میں حضور نے تحریر فرمایا تھا کہ ہم آپ کے دوست ہیں۔آپ ہمارے پاس آکر علاج کرائیں ہم آپ کا علاج بہت ہمدردی اور توجہ سے کریں گے۔اسی طرح حضور نے عزیزم مکرم مولوی فضل دین صاحب آف مانگٹ اونچے حال مبلغ حیدر آباد کو بھی ارشاد فر مایا کہ آپ اپنے استاد صاحب کو لکھیں کہ وہ قادیان آکر ہم سے علاج کرائیں۔چنانچہ خاکسار پیرکوٹ سے قادیان آ گیا۔جب سیدنا حضرت خلیفۃ المسیح اول رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے مجھے دیکھا تو بہت ہی خوش اللہ ہوئے اور گھر جا کر حضرت اماں جی صاحبہ ( والدہ ماجدہ صاحبزادہ عبد الحئی صاحب مرحوم ) کو فر مایا کہ میں نے ان کو علاج کے لئے خود بلایا ہے۔ان کے لئے میری طبی ہدایت کے ماتحت کھانا گھر میں تیار کیا جائے۔چنانچہ حضور کی ہدایت کے ماتحت دس بارہ دن میرا پر ہیزی کھانا حضرت کے گھر میں تیار ہوتا رہا۔بعد میں حضرت اماں جی کی طبیعت ناساز ہونے کی وجہ سے حضور نے سیدنا حضرت محمود