حیات قدسی — Page 186
۱۸۶ پڑھتے اور روحانیت کے حصول کے لئے بہت ہی مفید نسخہ قرار دیتے اور اکثر فرماتے کہ یہ شعر تصوف کی جان ہے۔ایک علمی لطیفہ جن دنوں زلزلہ بہار کا تبا ہی انگن حادثہ وقوع میں آیا اور اس کی تفصیلات اخباروں میں شائع ہو کر لوگوں کی توجہ کو کھینچنے کا باعث بنیں، میرے پاس بھی ایک دو اخبار جن میں زلزلہ کی ہولناک تباہی کی تفصیل درج تھی موجود تھے۔اتفاق سے ایک معزز غیر احمدی دوست میرے پاس تشریف لائے اور فرمانے لگے کہ آپ جانتے ہیں کہ میں اتنی علمی قابلیت ضرور رکھتا ہوں کہ کلام کے حسن و قبح کو بخوبی پر کھ سکتا ہوں۔جب انہوں نے یہ بات منہ سے نکالی تو میں فوراً بھانپ گیا کہ یہ صاحب چونکہ ہمارے سلسلہ پر نکتہ چینی کی عادت رکھتے ہیں، اس لئے اس تمہید کے بعد ضرور کوئی اعتراض کریں گے۔چنانچہ میں نے کہا کہ میں مانتا ہوں کہ آپ مادی عقل و سمجھ کے کلام کو پرکھنے کا ملکہ ضرور رکھتے ہیں۔وہ فوراً بولے کہ آپ نے یہ قید کیوں لگائی ہے۔میں نے کہا کہ قرآن کریم میں آیا ہے کہ فَوْقَ كُلَّ ذِى عِلْمٍ عَلِيمٌ اب جس علیم اور فائق ہستی کا علم آپ سے زیادہ ہو گا اور اس کا کلام آپ کی قابلیت اور فہم سے بالا تر ہو گا۔اس کے متعلق آپ کی نکتہ چینی آپ کی غلط فہمی اور قصور منہمی کی وجہ سے بھی ہو سکتی ہے۔تا ہم آپ اس وقت کسی کلام کے حسن و قبح کے متعلق اگر کچھ فرما نا چاہیں تو شوق سے فرما ئیں۔اعتراض اس پر وہ کہنے لگے کہ آپ کو معلوم ہے کہ جناب مرزا صاحب نے ایک اشتہار النداء من وحى السماء لکھ کر شائع کیا تھا میں نے کہا ہاں پھر فرمانے لگے کہ اس میں ایک شعر یہ بھی لکھا ہے۔زلزلہ سے دیکھتا ہوں میں زمیں زیر و زبر وقت اب نزدیک ہے آیا کھڑا سیلاب ہے اور یہ شعر اپنے مضمون کے اعتبار سے کسی ربط اور ترتیب کا حامل نہیں۔پہلے مصرعہ میں تو خیر زلزلہ کی کیفیت بیان کی گئی ہے اس کے متعلق مجھے کچھ کہنے کی ضرورت نہیں لیکن دوسرے مصرعہ کو جس میں سیلاب کا ذکر ہے۔پہلے مضمون سے کوئی بھی ربط اور تعلق نہیں اور ایسا بے ربط کلام ایک ایسے شخص