حیات قدسی — Page 185
۱۸۵ سے ایک ایسی پر حکمت بات نکلی کہ میں نے اسی وقت اپنی نوٹ بک میں درج کر لی۔اسی طرح حضور اقدس علیہ السلام نے اپنے رسالہ ضرورۃ الامام میں فرمایا کہ ہم تو علم و معرفت کے متعلق اپنے اندر اتنی پیاس محسوس کرتے ہیں کہ ایک سمند ر علم و معرفت کا پی کر بھی سیراب ہونے والے نہیں او حضور نے فرمایا کہ بعض دفعہ بظاہر معمولی سی بات کے اندر بھی عظیم الشان حقایق پوشیدہ ہوتے ہیں آپ نے اپنی کتاب حجتہ اللہ میں کیا ہی خوب فرمایا ہے و انّی سُقيت الماء ماء المعارف وأعطيت حكمًا عافها قلب احمق تصوف کا ایک نکتہ مجھے دورہ تبلیغ پر ہندوستان کے تمام علاقوں اور تقریباً اکثر شہروں میں جانے کا اتفاق ہوا ہے۔سرگودھا شہر میں بھی میں بارہا گیا۔وہاں کے امیر حضرت حافظ مولوی عبد العلی صاحب بی۔اے ایل ایل بی پلیڈر برادر حضرت مولانا شیر علی صاحب رضی اللہ تعالیٰ عنہ وارضاہ تھے۔سرگودھا میں علاوہ درس و تدریس کے حضرت حافظ صاحب سے علمی و روحانی مذاکرہ اور مجالست کا بھی موقع ملتا۔حافظ صاحب اکثر یہ فرمایا کرتے کہ مجھے کوئی ایسی نصیحت یا کلام سنا ئیں جس سے روحانیت اور قرب الہی میسر آئے اور وہ بات مختصر اور مطلب خیز ہو۔حافظ صاحب کی اس فرمائش پر میں نے ان کی خدمت میں سیدنا حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا یہ شعر پیش کیا کہ حريص غربت و معجزم ازاں روزے کہ دانستم که جا در خاطرش باشد دل مجروح غربت را ت یعنی میں اسی روز سے غربت اور عجز کا حریص رہتا ہوں جب سے مجھے اس بات کا علم ہوا ہے کہ اس جانِ جہاں اور محبوب ازل کے دل میں ایسے ہی دردمند عاشق کے لئے جگہ ہے جس کا دل کا غربت و مسکینی سے مجروح ہو چکا ہو۔حافظ صاحب اس شعر کوسن کر بہت خوش ہوئے اور جب کبھی بھی اس کے بعد میرے ساتھ ان کی ملاقات ہوتی تو اس شعر کا اور اس کے مطالب کا ضرور شوق کے ساتھ ذکر فرماتے اور اس کو بار بار