حیات قدسی — Page 167
۱۶۷ اچانک مرض کا حملہ میں ابھی اس سلسلہ میں بات کر ہی رہا تھا کہ میاں شمس دین صاحب کو گھر سے اطلاع ملی کہ ان کے کی لڑکی جس کو آٹھواں مہینہ حمل کا ہے۔بوجہ تے قریب المرگ ہے ان کو زنان خانہ میں فوراً بلایا گیا۔اُدھر پیغامبر نے یہ اطلاع دی اور دوسری طرف میں نے باہر نکلتے ہوئے السلام علیکم کہا اور پنجابی میں یہ بھی کہا کہ اچھا نسی وسدے بھلے اور اسی چلدے بھلے۔ابھی میں نے ایک دو قدم ہی باہر کی طرف اُٹھائے تھے کہ میاں صاحب نے کہا کہ آپ ذرا ٹھہر جائیں اور اگر آپ کو طبابت سے واقفیت ہو تو و اس مرض کے لئے کوئی نسخہ بتا جائیں۔میں نے کہا کہ حاملہ کی قے کے لئے آپ سات پتے پیپل کے جو خو در یختہ ہوں لے لیں اور ان کو جلا کر راکھ چینی کے پیالہ میں ڈال لیں اور آدھ پاڈیا تین چھٹانک پانی ڈال کر راکھ کو اس میں گھول لیں۔جب راکھ نیچے بیٹھ جائے تو پھر گھول لیں اس طرح سات مرتبہ کر کے راکھ کو یہ نشین کرلیں اور یہ مقطر پانی مریضہ کو پلا دیں۔میرے کہنے کے مطابق میاں صاحب نے عمل کیا خدا تعالیٰ کے عجائبات ہیں کہ مریضہ کی تے پانی پیتے ہی رک گئی اور اس کی طبیعت فوراً سنبھل گئی۔جب انہوں نے یہ کرشمہ قدرت دیکھا تو میری طرف فوراً آدمی دوڑایا ( میں اس عرصہ میں گھر سے نکل کر کچھ دور آ چکا تھا) اور مجھے اپنے آنے تک رکنے کے لئے کہا۔چنانچہ میں رک گیا تھوڑی دیر میں وہ بھی آپہنچے اور علاج کی بے حد تعریف کرنے کے بعد درخواست کرنے لگے کہ میں ان کے ہاں مہمان ٹھہروں وہ ہر طرح سے میرے آرام و سہولت کا خیال رکھیں گے اور مہمانداری کا حق ادا کریں گے۔میں نے کہا کہ میری دعوت کو تو آپ نے ردفرمایا ہے جو قومی فائدہ کے لئے تھی اور اپنی طرف سے مجھے دعوت دے رہے ہیں۔میاں صاحب نے بہت معذرت کی اور کہا کہ جو کچھ ہوا سب نا واقفیت کی وجہ سے ہوا۔اب میں روزانہ شہر میں ڈونڈی پٹوا کر مسلمانوں کو اکٹھا کرنے کا انتظام کروں گا اور جلسہ کا انعقاد کر کے آپ کو مفید اور کارآمد خیالات کے اظہار کا موقع بہم پہنچاؤں گا۔چنانچہ حسب وعدہ روزانہ جلسے کا انتظام اور انعقاد کرتے اور خود اپنی صدارت میں میری تقریر کراتے۔ان کے اثر و رسوخ اور وقار کی وجہ سے لوگ جوق در جوق جلسہ میں آتے اور میری تقریر کو سنتے یہاں تک کہ شہر کے مسلمانوں میں اپنی اقتصادی حالت کو سنوارنے کے لئے خوب بیداری پیدا ہوگئی۔اتنی کے قریب مسلمانوں کی نئی دکانیں شہر میں کھل گئیں اور جو دو کا نہیں اور کاروبار پہلے موجود