حیات قدسی

by Other Authors

Page 166 of 688

حیات قدسی — Page 166

۱۶۶ اس غرض کے لئے حضور ایدہ اللہ تعالیٰ نے ایک تنظیم کے ماتحت مبلغین کو مختلف علاقہ جات میں بھجوایا۔اس سلسلہ میں خاکسار کو ضلع جھنگ میں متعین کیا گیا۔جب میں شہر جھنگ میں پہنچا تو میں نے حالات کے پیش نظر مقامی احمدی احباب کے پاس جانا پسند نہ کیا اور شہر میں دریافت کیا کہ جھنگ میں زیادہ با اثر اور معزز رئیس جو شریف طبع اور با اخلاق بھی ہو کون ہے۔مجھے بتایا گیا کہ میاں شمس دین صاحب میونسپل کمشنر ان اوصاف کے مالک ہیں۔چنانچہ میں ان کی رہائش گاہ کا پتہ لے کر وہاں پہنچا۔میاں شمس دین صاحب اپنے گھر کے بڑے صحن میں اپنے حلقہ احباب میں بیٹھے ہوئے تھے۔مجلس میں تقریباً ہر طبقہ کے لوگ شامل تھے۔بعض کے آگے بڑے قیمتی حقے رکھے ہوئے تھے اور خود میاں شمس دین صاحب بھی حقہ پی رہے تھے جس پر چاندی کی گلکاری کی ہوئی تھی۔مجلس کے قریب پہنچتے ہی میں نے اونچی آواز سے السلام علیکم کیا۔علیک سلیک کے بعد میاں صاحب نے مجھ سے پوچھا کہ آپ کہاں سے تشریف لائے ہیں۔میں نے کہا کہ قادیان مقدس سے آیا ہوں اور احمدی ہوں۔انہوں نے مقصد دریافت کیا تو میں نے مختصر طور پر آریوں کی تحریک شدھی مسلمانوں کی اقتصادی بدحالی اور اس کے تدارک کے متعلق ضروری اسکیم کا ذکر کیا اور وہ امور بیان کئے جو سید نا حضرت مصلح موعود ایدہ اللہ تعالیٰ نے رسالہ ”اسلام“ میں ذکر فرمائے تھے۔میاں شمس دین صاحب نے کہا کہ مقاصد تو اچھے ہیں لیکن کسی قادیانی کے لئے یہاں بیٹھنا تو درکنار کھڑا ہونے کی بھی اجازت نہیں دی جاسکتی۔میں نے ان کی خدمت میں احمد یہ جماعت اور اس کے مقدس امام کی مسلمانوں کے ساتھ ہمدردی اور ان کی بر وقت امداد کا ذکر کیا۔اور ان کو بھی اس مفید اسکیم میں تعاون کی طرف توجہ دلائی لیکن انہوں نے بے التفاتی برتی۔دریں اثناء ایک طبیب نے جو اسی مجلس میں بیٹھا ہوا تھا کسی تعلق میں کہا کہ علم طب ایک یقینی علم ہے میں نے اس کی یہ بات سن کر عرض کیا کہ اس وقت تو میں جا رہا ہوں کسی علمی بات کا موقع نہیں صرف اتنا کہ دیتا ہوں کہ افلاطون کا مشہور مقولہ اطباء اسلام نے نقل کیا ہے کہ المعالجته کرمی السهم في الظلمات قد يخطى وقد يصيب یعنی مریضوں کا علاج معالجہ اندھیرے میں تیر پھینکنے کی طرح ہے جو کبھی نشانہ پر بیٹھتا ہے اور کبھی خطا جاتا ہے۔پس علم طب کو یقینی علم کہنا درست نہیں۔