حیات قدسی

by Other Authors

Page 164 of 688

حیات قدسی — Page 164

۱۶۴ عزم و استقلال کو بیدار کیا۔چنانچہ بادشاہ نے نہایت جوش ، استقلال اور جلال سے فرمایا والله لا اكل الطين بعد ذالک ابدا۔یعنی خدا کی قسم میں اب کبھی مٹی نہ کھاؤں گا اور اس نے مٹی کھانا ہمیشہ کے لئے ترک کر دیا۔اس کے بعد بادشاہ جب دربار میں آیا تو اس نے ذکر کیا کہ میں نے مٹی کھانی چھوڑ دی ہے۔درباری اس فوری تبدیلی اور علاج سے بے حد متعجب ہوئے تو بادشاہ نے کہا کہ علاج تو دراصل ہمارے اپنے اندر ہی فطری طور پر موجود تھا۔صرف صحیح طور پر تحریک کی ضرورت تھی جو سیاح صاحب نے کر دی اور ہماری قوت ضبط اور قوت ارادی کو اُبھار دیا۔جب حضرت اقدس علیہ الصلوۃ والسلام نے یہ حکایت بیان فرمائی تو وکیل صاحب پر حضور کی توجہ اور برکت سے اس حکایت کا ایسا اثر ہوا کہ وہ فوراً بول اٹھے کہ حضور ! آج سے میں بھی اپنے عزم اور پختہ ارادہ سے شراب نوشی سے تو بہ کرتا ہوں۔حضور میرے لئے دعائیں فرمائیں کہ خدا تعالیٰ مجھے اس تو بہ پر استقامت اور استقلال بخشے۔حضرت منشی صاحب نے ذکر کیا کہ حضرت علامہ مولانا نورالدین صاحب سے تو میں نے واضح طور پر اپنے دوست کی میخواری کا ذکر کر کے وعظ ونصیحت کی درخواست کی تھی۔لیکن حضرت اقدس علیہ الصلوۃ والسلام سے اس بارہ میں اشارہ بھی کچھ ذکر نہ کیا تھا لیکن ہمارے حاضر ہوتے ہی حضور نے وہ بات بیان فرمائی جو ہزار ہا نصائح اور مواعظ حسنہ سے بھی حضور کی توجہ اور قوت قدسیہ سے بڑھ کر موثر ثابت ہوئی اور میرے دوست کو اس عادت بد سے تو بہ کی توفیق مل گئی۔الحمد للہ علی ذالک حضرت اقدس علیہ الصلوۃ والسلام وکیل صاحب کی تو بہ سے بہت خوش ہوئے اور فرمایا کہ انسانی فطرت گناہوں کی زہر سے خواہ کتنی ہی آلودہ کیوں نہ ہو جائے ، اس کے اندر ہی خدا تعالیٰ نے اس زہر کا تریاق بھی رکھا ہوا ہے۔جس طرح پانی آگ کی حرارت سے خواہ کتنا گرم ہو جائے اور جوش سے ابلنے لگے پھر بھی وہ شدید گرم پانی جب مشتعل آگ پر پڑتا ہے تو اس کو بجھا دیتا ہے کیونکہ پانی میں حرارت کا اثر پیدا ہو جانا اس کی فطرت کے خلاف ہے۔یہی حال انسانی فطرت کا ہے کہ شیطان جو ناری ہے چاہتا ہے کہ انسان کو بھی گناہوں میں ملوث کر کے ناری بنا دے۔لیکن انسان کی قوت ارادی اور قوت ضبط اس کی فطرت کے اصل جو ہر کو جو پاکیزہ ہے ابھارنے میں کامیاب ہو جاتی ہے اس کے بعد حضور اقدس علیہ السلام نے دعا فرمائی اور رخصت کی اجازت فرمائی۔