حیات قدسی

by Other Authors

Page 155 of 688

حیات قدسی — Page 155

۱۵۵ وفات مسیح علیہ السلام کے ذکر کی اہمیت اسلام کو جس قدر نقصان حیات مسیح کے عقیدہ نے پہنچایا ہے اور اس حربہ کے ذریعہ سے جس طریق پر عیسائی پادری مسلمانوں کو شکست پر شکست دے کر لاکھوں مسلمانوں کو عیسائی بنانے میں کامیاب ہوئے ہیں اس کا اندازہ شاید احباب اس زمانہ میں جب کہ سیدنا حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے ذریعہ کسر صلیب کے کام کا ایک معتد بہ حصہ پورا ہو چکا ہے، نہ لگا سکیں لیکن حضور اقدس کی بعثت سے پہلے پادریوں کے دجل و فریب کو حیات مسیح کے ایک عقیدے سے ہی بہت کچھ تقویت حاصل ہو رہی تھی اور صرف ہندوستان میں ہی ہزار ہا مسلمانوں کو زندہ نبی اور مردہ نبی کے چکر میں ڈال کر عیسائیوں نے گمراہ اور مرتد کیا۔چنانچہ ہندوستان کے دو مسلمان عالم جو عیسائی ہونے کے بعد مشہور پادری بنے ، حیات مسیح کے عقیدہ سے ہی عیسائیوں کا شکار ہوئے۔جب یہ دونوں عربی کی سب سے بڑی ڈگری حاصل کر کے فارغ التحصیل ہوئے تو بعض پادری ان سے ملے اور کہا کہ مولوی صاحبان آپ نے عربی کی اعلیٰ درجہ کی ڈگری حاصل کی ہے۔ہم آپ سے کچھ دریافت کرنا چاہتے " ہیں انہوں نے کہا کہ پوچھئے جو پوچھنا چاہتے ہیں۔چنانچہ ایک پادری نے دریافت کیا کہ اصول موضوعہ و متعارفہ کے رُو سے جس امر کی صداقت ثابت ہو جائے اسے نہ قبول کرنے والا کیسا آدمی ہوتا ہے؟ مولوی صاحبان جواباً کہنے لگے کہ اسے جاہل، بیوقوف اور مر دود سمجھنا چاہیئے۔پھر دوسرے پادری صاحب نے دریافت کیا کہ مولوی صاحبان! اگر دو انسان ایک ہی حیثیت کے ہوں اور ان دونوں میں سے ایک کو زندہ رکھا جائے اور دوسرے کو وفات دے دی جائے تو دونوں میں سے مفید تر ، اعلیٰ اور افضل کس کو سمجھنا چاہیئے ؟ اور زندہ اور مردہ میں سے کس کی معیت اور رفاقت اختیار کرنی چاہیئے۔مولوی صاحبان نے زندہ کو مردہ پر ترجیح دی۔پھر پادریوں نے دریافت کیا کہ دو انسانوں میں سے اگر ایک کو دشمنوں کے حملہ سے بچانے کے لئے کسی بلند مقام پر عزت اور حفاظت سے رکھا جائے اور دوسرے کو حملہ کے وقت کسمپرسی کی حالت میں پہاڑ کی کھوہ میں چھپنا پڑے تو ان دونوں میں سے کس کا درجہ اور شان بڑی ہے۔مولوی صاحبان نے اس کے جواب میں بھی کہا کہ اصول موضوعہ متعارفہ کے رو سے تو اسی کا درجہ اور شان بلند ہے جس کو خطرہ کے وقت اونچی جگہ پر