حیات قدسی — Page 141
۱۴۱ نظر کرم مہر غلام محمد صاحب ساکن سعد اللہ پور ضلع گجرات جن کا ذکر پہلے بھی آچکا ہے کو عرصہ سے ایک ایسی بیماری لاحق تھی جس کی وجہ سے ان کے سر اور رخسار کی بعض رگوں میں ٹیس اٹھنے سے سخت تکلیف ہوتی تھی۔انہوں نے اس بیماری کا علاج تو بہت کرایا مگر کوئی فائدہ نہ ہوا۔ایک دفعہ ہم قادیانِ مقدس میں حضور اقدس علیہ الصلوۃ والسلام کی بارگاہِ عالی میں حاضر ہوئے تو میں نے حضور عالی کی خدمت میں پیش کرنے کے لئے مہر غلام محمد صاحب کو دعا کے لئے ایک عریضہ لکھ دیا اور اس کے آخر میں کچھ پنجابی کے اشعار بھی تحریر کر دیے جن میں سے ایک شعر یہ تھا۔نام غلام محمد میرا میں تیریاں وچ غلاماں بھر کے نظر کرم دی میں ول تکگیں پاک اماماں ترجمه۔میرا نام غلام محمد ہے میں آپ کی غلامی میں ہوں۔اے میرے پاک امام میری طرف اپنی نگاہ کرم فرمائیں۔عند الملاقات حضور علیہ السلام نے جب مہر غلام محمد صاحب کے اس عریضہ کو پڑھا تو مجھے مخاطب کر کے فرمایا کیا یہ شعر آپ نے لکھے ہیں میں نے عرض کیا کہ ہاں حضور میں نے ہی لکھے ہیں اس کے بعد حضور علیہ السلام نے مہر غلام محمد صاحب کی طرف دیکھا تو ان کی یہ بیماری اسی وقت دور ہو گئی۔چنانچہ اس کے بعد مہر غلام محمد صاحب ہمیشہ حضور علیہ السلام کے اس اعجاز مسیحائی کا ذکر کرتے رہتے تھے۔مکتوبات گرامی سید نا حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی بیعت راشدہ کے بعد خدا کے فضل سے مجھے اکثر حضور علیہ الصلوۃ والسلام کی خدمت عالیہ میں خطوط لکھنے کا موقع ملتا رہا ہے مگر افسوس ہے کہ ان مکتوبات گرامی میں سے جو میرے خطوط کے جواب میں حضور علیہ السلام کی طرف سے موصول ہوتے رہے ہیں اس وقت صرف تین مکتوبات کی نقل میرے پاس موجود ہے اور باقی مکتوبات ضائع ہو گئے ہیں۔ان تین مکتوبات میں سے دو مکتوبات تو حضرت مولوی عبد الکریم صاحب سیالکوٹی رضی اللہ عنہ