حیات قدسی — Page 140
۱۴۰ و عتوا عتوا كبيرًا۔یعنی وہ لوگ جو ہماری ملاقات سے نا امید ہو چکے ہیں انہوں نے کہا کہ کاش ہم پر بھی فرشتے اتارے جاتے یا ہم بھی خدا تعالیٰ کو دیکھتے۔یقیناً ان لوگوں نے اپنے آپ کو تکبر میں مبتلا کر دیا ہے اور بہت بڑی سرکشی کے مرتکب ہوئے ہیں۔اس کشف کے بعد اس آیہ کریمہ کے ذریعہ اللہ تعالیٰ نے مجھے یہ سمجھایا کہ فرشتوں کے نزول اور دیدار الہی سے محرومی کی وجہ ہمیشہ لوگوں کا تکبر اور احکام الہی سے سرکشی ہوا کرتی ہے نعوذ باللهِ مِن شرور انفسنا ومن سيأت أَعْمَالِنَا۔سید نا حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے خوب فرمایا ہے۔پسند آتی ہے اس کو خاکساری تذلل ہے رو درگاه باری 21 جھوک مهدی والی سید نا حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے عہد مبارک میں جب میں اپنے سسرال موضع پیر کوٹ آیا تو یہاں آکر میں نے برادرم حکیم محمد حیات صاحب کی فرمائش پر ایک پنجابی نظم ( جھوک مہدی والی) کے نام سے لکھی۔چونکہ اس جھوک میں حضور علیہ الصلوۃ والسلام کی صداقت کے دلائل و براہین کے علاوہ میں نے جذبات عقیدت کا اظہار بھی کیا تھا اس لئے یہ جھوک بہت پسند کی گئی اور شائع ہونے کے بعد بعض لوگوں کی ہدایت کا موجب ہوئی اور پنجاب کے اکثر دیہاتی احمد یوں میں اسے اتنی قبولیت حاصل ہوئی کہ آج تک شاید بیسیوں مرتبہ شائع ہو چکی ہے اور اب پھر مولوی عبداللطیف صاحب شاہد گجراتی نے اسے لاہور سے شائع کر کے الفضل اخبار میں اشتہار دیا ہے۔مزید برآں اس جھوک کو یہ شرف بھی حاصل ہے کہ سیدنا حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام جن دنوں ایک مقدمہ کی وجہ سے گورداسپور تشریف فرما تھے تو میری بیوی کے بھائی میاں عبداللہ خانصاحب نے اسے حضور کی خدمت عالیہ میں پڑھ کر سنایا تھا۔علا وہ ازیں حضرت خلیفۃ المسيح اول رضی اللہ عنہ اور حضرت خلیفۃ المسیح الثانی ایدہ اللہ بنصرہ العزیز نے بھی اسے سن کر پسند فرمایا تھا۔