حیات قدسی — Page 135
۱۳۵ خدمت اسلام کے متعلق بھی اپنے دلوں میں ایسی ہی تڑپ محسوس کریں جیسا کہ دنیا کے لئے محسوس کرتے ہیں۔پھر حضور اقدس علیہ الصلوۃ والسلام یہ بھی فرمایا کرتے تھے کہ کئی دوستوں کی درخواستیں دعا کے متعلق اس غرض سے ہوتی ہیں کہ ان کا فلاں کام ہو جائے اور مال و دولت مل جائے یا بیوی اور بچے کے مل جائیں اور بیماروں کو صحت ہو جائے مگر ایسی درخواستیں بہت کم ہوتی ہیں جن میں یہ لکھا ہو کہ آپ میرے لئے دعا کریں کہ مجھے اللہ تعالیٰ کی اور رسول کی محبت نصیب ہوا اور خدمت دین کی طرف رغبت پیدا ہواور فلاں فلاں کمزوری اور بدی جو مجھ میں پائی جاتی ہے اللہ تعالیٰ اسے دور کر دے۔حضور اقدس علیہ الصلوۃ والسلام یہ بھی فرمایا کرتے تھے کہ مومنوں کا کام تو یہ ہے کہ ان کا ہر ایک شغل دین سے تعلق رکھنے والا ہوا اور جیسے کا فرلوگ دنیا اور دنیا کے مال و دولت اور ہر ایک چیز سے کفر کی بقا وترقی کے لئے کوشش کرتے ہیں ایسے ہی مومنوں کو چاہیئے کہ وہ ان کے مقابل میں غیرت کا ثبوت دیتے ہوئے اپنی جان و مال اور گھر بار کو دین کی خدمت میں لگا کر دین کو دنیا میں قائم کر دیں تا کہ دنیا میں خدا تعالیٰ کا جلال ظاہر ہو اور اسلام پھلے پھولے اور دوسرے تمام ادیان پر غالب آئے۔پھر حضور علیہ الصلوۃ والسلام یہ بھی فرمایا کرتے تھے کہ میں آپ لوگوں کو دنیا کے کاموں سے بالکل منع نہیں کرتا بلکہ میرا اصل مسلک جس پر میں لوگوں کو قائم کرنا چاہتا ہوں یہ ہے کہ لوگ دین کو دنیا پر مقدم رکھتے ہوئے دنیا کا شغل اختیا رکریں۔نوٹ۔حضور اقدس کے مذکورہ بالا ارشادات کے اصل الفاظ تو شاید ضبط میں نہیں آسکے مگر جو مطلب اور مفہوم مجھے اب تک یاد ہے وہ یہی تھا۔اسم اعظم ایک دفعہ مجھے اللہ تعالیٰ کی طرف سے الہاماً بتایا گیا کہ سورہ ٹین کی آخری تین آیات میں اسم اعظم پایا جاتا ہے وہ آیات مندرجہ ذیل ہیں۔أَوَلَيْسَ الَّذِي خَلَقَ السَمواتِ وَالاَرضَ بِقَادِرٍ عَلَىٰ أَنْ يَخْلُقَ مِثْلَهُمْ بَلَىٰ وَهُوَ الخلاق العليم إِنَّما أَمْرَهُ إِذا أَرَادَ شيئًا أَنْ يَقُولُ لَهُ كن فيكون فَسُبْحَانَ الَّذِي بيده ملكوت كلَّ شَييٌّ وَ إِلَيْهِ تُرْجَعُونَ