حیات قدسی — Page 128
۱۲۸ صاحبداد خانصاحب نے مثنوی کا یہ شعر پیش کیا نیست زرغباً طریق عاشقاں ہمچو مستسقی است حالِ صادقاں اور پھر اس کی تشریح میں انہوں نے بتایا کہ اس شعر میں جو اشکال پیدا ہوتا ہے وہ یہ ہے کہ بچے عاشقوں کی حالت جب محبوب کے بغیر ایک چاہیے انسان یا مچھلی کی طرح ہو جاتی ہے اور وہ چاہتے ہیں کہ اپنے محبوب سے ایک لحظہ کے لئے بھی جدا نہ ہوں تو پھر جیسا کہ اس شعر کے پہلے مصرعہ میں مذکور ہے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ابو ہریرہ جیسے عاشق صادق کو یہ کیوں ارشاد فرمایا تھا کہ زرنی غباً تز د دخبًا۔یعنی اے ابو ہریرہ مجھے کبھی کبھی ملا کر اس طرح تو محبت میں ترقی کر جائے گا۔کیا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے اس ارشاد گرامی سے حضرت ابو ہریرہ کو تکلیف نہ پہنچی ہوگی اور کیا یہ بات آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے اخلاق فاضلہ کے منافی نہیں۔جواب چوہدری صاحبداد خان صاحب کے اس سوال کے جواب میں میں نے انہیں بتایا کہ چوہدری صاحب ! افسوس ہے کہ آپ اس حدیث کا مطلب صحیح نہیں سمجھے بات اصل میں یہ ہے زرنی غِباً تردد حبا کا فقرہ ترغیب زیارت و صحبت کے لئے ہے۔یعنی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ فقرہ ابو ہریرہ کو اس لئے نہیں فرمایا تھا کہ ابو ہریرہ ہمیشہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس رہا کرتے تھے اور آنحضور ان کی رہائش سے تنگ آگئے تھے بلکہ اس لئے فرمایا تھا کہ ابو ہریرہ نے آنحضرت کی زندگی کے آخری تین سال تک ہی کا موقع حاصل کیا تھا اور اپنے کاروبار میں مصروف رہتے تھے اور اس طرح وہ آنحضور کی خدمت میں بہت ہی کم آتے تھے اس لئے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں ترغیب دلانے کے لئے فرمایا۔زُرُنِي غِبًّا تَزْدَدُ حُبًّا یعنی ہر روز ملنے کا موقع نہیں مل سکتا تو اے ابو ہریرہ کبھی کبھی ہی مل لینا اس سے تیرے اندر محبت ترقی کرے۔اس لئے کہ صحبت، علم ، معرفت اور محبت کا ذریعہ ہے۔چنانچہ اس ارشاد کے بعد واقعی حضرت ابو ہریرہ اپنا سب کچھ چھوڑ کر ہمیشہ کے لئے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت عالیہ میں