حیات قدسی — Page 96
۹۶ تیار کریں۔انہوں نے ملاح کو بہت اُکسایا مگر وہ یہی جواب دیتا رہا کہ وہاں پانی کا زور بہت زیادہ ہے اس لئے مجھے تو ہمت نہیں ہوتی میں نے کہا اچھا اگر اسے ہمت نہیں پڑتی تو میں ہی چھلانگ لگا دیتا ہوں۔چنانچہ جب میں پانچویں در سے ندی میں کو دا تو اسی وقت ایک بھنور میں پھنس گیا اور بڑی کوشش کے باوجود اس سے مخلصی کی سبیل نہ پائی آخر جب مجھے غوطے آنے شروع ہوئے تو تمام دوستوں نے پل کو پر چلا نا شروع کر دیا کہ ہائے مولوی صاحب ڈوب گئے۔جب میں بھنور میں دو تین مرتبہ غوطے کھا کر بے بس ہو گیا تو اچانک مجھے کسی چیز نے اس طرح زور سے اوپر کو ا چھالا کہ میں خارق عادت طور پر اس بھنور سے نکل کر کئی قدموں کے فاصلہ پر کنارے کے قریب ایسی جگہ آپڑا جہاں ایک گرے ہوئے درخت کی شاخیں میرے ہاتھ میں آگئیں اور میں نے ان شاخوں کو پکڑ کر آرام کا سانس لیا اور آہستہ آہستہ کنارے پر آ پہنچا۔دوستوں نے جب مجھے بخیریت کنارے پر دیکھا تو اسی وقت سجدہ میں گر گئے ہو اور میں بھی طبیعت سنبھلنے پر سجدہ شکر بجالایا کہ اللہ تعالیٰ نے اس مصیبت سے نجات بخشی الحمد للہ۔اس کے بعد جب ہم گھر واپس پہنچے تو عبدالمجید خاں صاحب کی والدہ ماجدہ نے شکرانہ کے طور پر ایک پلاؤ کی دیگ پکوا کر غرباء میں تقسیم کروائی۔فجزاها الله احسن الجزاء اس واقعہ کے بعد اس خواب کی تعبیر بھی کھلی کہ یہاں ہاتھی سے مراد دراصل وہ مصیبت تھی جو ہاتھی کے سفر کے ذریعہ طوفانِ آب کی صورت میں پیدا ہوئی۔العیاذ باللہ اس قیام کے دوران میں عبدالمجید خاں صاحب نے مجھ سے ایک پنجابی سی حرفی بھی لکھوائی تھی اور چونکہ ان کی خواہش تھی کہ ہر ایک بند میں میرا نام بھی آئے اس لئے میں نے اس کا بھی التزام کیا تھا۔یہ سی حرفی مفتی محمد صادق صاحب نے شائع کرانے کے لئے مجھ سے لی تھی مگر افسوس ہے کہ ان سے کھو گئی اس لئے شائع نہ ہوسکی اس وقت کچھ اشعار مجھے یاد ہیں جو مندرجہ ذیل ہیں الف۔اللہ دے نام دا ورد کریئے اسدے نام دا ورد سہاونا اوئے خالص کیمیا اتے اکسیر اعظم اسدا نام نہ دلوں بھلا ونا اوئے دنیا خواب خیال مثال اینویں غفلت وچ نہ وقت گنواونا اوئے کر لے عمل غلام رسول چنگے وت وت نا ہیں ایتھے آونا اوئے بالڑی عمر نہ رہے آخر سدا رہن نہ چین تے چا تیرے باغ حسن دا انت ویران ہوسی کوئی پلک ایہہ ناز ادا تیرے