حیات قدسی — Page 85
۸۵ ایک عجیب کشف حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے وصال کے بعد جبکہ میں لا ہور شہر میں بغرض تبلیغ قیام رکھتا تھا۔ان دنوں ایک دفعہ میں مسجد احمد یہ کے قریب کے کوچہ میں سے جا رہا تھا کہ اچانک مجھ پر کشفی حالت طاری ہوئی اور میں نے دیکھا کہ میری گردن پر ایک تیز ہتھیار چلا کر میرا سر جسم سے جدا کر دیا گیا ہے اور اس وقت میری روح کے اندر ایک اور روح داخل ہوئی ہے جس کے داخل ہونے کے ساتھ ہی میرے اندر ایک عجیب جذبہ اور جوش پیدا ہوا ہے اور میری زبان پر الہامی طور پر یہ تین کلمات طیبات جاری ہوئے ہیں۔اول۔لا اله إلا الله خير الراحمين دوئم۔لا إله إِلَّا الله خير المحسنين سوئم۔لا إله إِلَّا الله خير المحبوبين ان کلمات مقدسہ کے جاری ہونے کے بعد مجھے ان کے متعلق یہ تفہیم ہوئی کہ جوشخص چاہے کہ اسے خدا تعالیٰ کی محبت کا اعلیٰ مقام حاصل ہو اس کے لئے ضروری ہے کہ وہ پہلے اللہ تعالیٰ کے خیر الراحمن اور خير المحسنین کی صفات کے فیوض کو ہر وقت اپنے ذہن میں رکھے اور اپنے دل میں ان کا اثر محسوس کرنے کے لئے کوشش کرتار ہے اور دعاؤں سے بھی اس مقصد کے حصول کے لئے استمداد کرانے میں لگا ر ہے۔آپ بھی کبھی ملا کریں اچھا خدا حافظ جب خاکسار نے حضور اقدس علیہ السلام کی خدمت عالیہ میں قصیدہ تائیہ پڑھ کر سنایا تو وہ گرمیوں کا موسم تھا چند روز کے قیام کے بعد جب میرا واپس آنے کا ارادہ ہوا تو ہم ضلع گجرات کے چند دوستوں نے چاہا کہ رات ہی رات بٹالہ پہنچ کر صبح گاڑی میں سوار ہو جائیں۔چنانچہ جب ہم اجازت لینے کے لئے حضور عالی کی خدمت میں حاضر ہوئے تو حضور اقدس نے مجھے مخاطب کرتے ہوئے فرمایا۔آپ کبھی کبھی ملا کریں یہ فقرہ ایسا ہی تھا جیسے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے زرنی غباً تردد حبات ابو ہریرہ کو مخاطب کر کے فرمایا یعنی ہر روز ملاقات نہ ہو سکے تو کبھی کبھی تو ملنا چاہئے تا اس طریق سے تعلق محبت میں ترقی ہو۔اس کے بعد حضور انور نے ہمیں مصافحہ کا شرف بخشا اور فرمایا