حیات قدسی — Page 51
۵۱ اچھا اگر مہر غلام محمد مرزا صاحب کے پاس نہیں گیا تو کیا ہوا آپ جو مرزا صاحب کے مرید یہاں موجود ہیں آپ ہی کوئی کرشمہ دکھائیں۔میں نے کہا کہ مجھے تو کسی اعجاز نمائی کا دعوی نہیں میں تو سید نا حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے خادموں میں سے ایک نا چیز آدمی ہوں۔البتہ مہر غلام محمد اگر مجھ سے اس امر کی عقدہ کشائی کی درخواست کرے گا تو احمدیت کی تبلیغ کی غرض سے اور اتمام حجت کے لئے میں ضرور اس معاملہ میں دعا کروں گا۔ان لوگوں نے جب میری یہ بات سنی تو مہر غلام محمد کو میری طرف بھیجا۔اس نے آتے ہی اپنی تمام داستان ناکامی کی روئداد سنائی اور ان پیروں فقیروں کے عملیات کی نا کامی کا ذکر کیا اور بتایا کہ جب بھی میں ان لوگوں کی ہدایت کے مطابق تعویذ لے کر لڑکی والے کو چہ سے گذرا ہوں تو ہمیشہ ہی مجھے اس لڑکی نے اور اس کے خاندان والوں نے انتہائی طور پر ذلیل کیا ہے اور گالیاں دی ہیں۔اس لئے اب میں سمجھ گیا ہوں کہ ان پیروں فقیروں میں کوئی تاثیر اور یمن باقی ہے نہیں رہا۔میں نے کہا اچھا اب میں ایک عمل بتاتا ہوں اگر اس کی تاثیر سے یہ لڑکی اور اس کی ماں خود تمہارے پاس پہنچیں اور نکاح کی درخواست کریں تو سمجھنا یہ احمدیت کی برکت ہے اور ہماری صداقت کا ایک نشان ہے۔چنانچہ اس کے بعد میں نے اسے ایک روحانی عمل بتایا۔خدا کی حکمت ہے کہ مہر غلام محمد نے وہ عمل شروع کیا اور جلد ہی وہ لڑکی اور اس کی ماں گھر سے نکلیں اور مہر غلام محمد کو گاؤں میں تلاش کرتی ہوئیں اس کے پیچھے جنگل میں پہنچیں اور نہایت زاری کے ساتھ کہنے لگیں کہ آپ ہم دونوں میں سے جس کے ساتھ چاہیں شادی کر لیں ہم راضی ہیں۔چنانچہ اسی وقت وہ مہر غلام محمد کو اپنے ساتھ گھر لے آئیں اور دن کے گیارہ بجے کے قریب اس لڑکی کے ساتھ مہر غلام محمد کا عقد ( نکاح ) ہو گیا۔اس کرشمہ قدرت کا ظاہر ہونا تھا کہ اس گاؤں کے مردوزن اور گردو نواح کے لوگ حیرت زدہ ہو گئے اور مہر شرف دین اور مہر غلام محمد اور ان کے گھرانے کے افراد نے احمدیت کو قبول کر لیا اور سیدنا حضرت مسیح موعود علیہ السلام پر آپ کی اس اعجازی برکت کا مشاہدہ کر کے ایمان لے آۓ۔الحمد للہ علی ذالک دعائے مستجاب مثنوی مولانا روم علیہ الرحمہ کی تعلیم کے دوران میں جب میں موضع گولیکی میں اقامت گزیں