حیات قدسی — Page 640
۶۴۰ معجزانه شفایابی ۱۹۴۴-۴۵ء کا واقعہ ہے کہ ایک رات قادیان میں حضرت ابی المکرم مولانا غلام رسول صاحب سخت بخار کے عارضہ سے بیمار ہو گئے۔درجہ حرارت ایک سو تین سے متجاوز ہو گیا۔علاج کے لئے ڈاکٹر نذیر احمد صاحب ریاض کو بلایا گیا۔انہوں نے معائنہ کے بعد نسخہ تجویز کیا اور دوائی پینے کے لئے دی حضرت والد صاحب بخار کی وجہ سے سخت کرب و گھبراہٹ میں تھے اور دوا پینے کے لئے آمادہ نہ ہوتے تھے۔ڈاکٹر صاحب نے تحریص دلانے کے لئے کہا کہ دو مولوی صاحب! یہ دوائی ضرور پی لیں اس سے ضرور آرام ہو جائے گا۔حضرت والد صاحب یہ فقرہ سنتے ہی جوش میں چار پائی پر اٹھ کر بیٹھ گئے اور فرمانے لگے:۔دوائی لے جاؤ میں یہ ہرگز استعمال نہیں کروں گا۔شفا دینے والا تو شافی مطلق خدا ہے یہ دوائی اس کے اذن کے بغیر کیا کرسکتی ہے۔آپ کہتے ہیں کہ یہ دوائی شفا دے گی میں اس کو پینے کے لئے تیار نہیں جس کو آپ خدا کا شریک ظاہر کرتے ہیں۔ڈاکٹر صاحب نے اور ہم سب اہل خانہ نے کافی منت سماجت کی لیکن حضرت والد صاحب نے دوائی نہ پی۔آخر ڈاکٹر صاحب کو مجبوراً رخصت کیا گیا جو نہی ڈاکٹر صاحب واپس ہوئے آپ کی حالت درست ہونی شروع ہوئی اور ایک دو گھنٹوں میں بخار جاتا رہا اور صبح کو آپ بالکل صحت کی حالت میں اٹھے۔یہ شفا اس غیرت کا نتیجہ تھی جو آپ نے خدائے قدوس و شافی کے لئے دکھائی تھی اور اللہ تعالیٰ نے اس کو نوازتے ہوئے معجزانہ سلوک فرمایا۔فَالْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَلَمِينَ ( برکات احمد را جیکی مرتب رسالہ ہذا) بارش سے حفاظت ۱۹۴۲ء کا ذکر ہے کہ میں لاہور میں ملازم تھا۔میرے بائیں کان میں پھوڑا نکلا اور شدید ورم اور درد پیدا ہوئی۔جس کی وجہ سے میں بیمار ہو کر رخصت پر قادیان آگیا۔چار ماہ کی رخصت دفتر والوں نے جناب ڈاکٹر حشمت اللہ صاحب انچارج شفاخانہ نور کے سر ٹیفکیٹ پر منظور کر لی۔جب میری رخصت ختم ہونے میں چند دن باقی تھے اور میری طبیعت بھی بہت حد تک سنبھل چکی تھی دفتر کی