حیات قدسی

by Other Authors

Page 639 of 688

حیات قدسی — Page 639

۶۳۹ واپس قادیان تشریف لے گئے۔حاتم علی آپ کے جانے کے معاً بعد بعارضہ سل بیمار ہو گیا۔مقامی طور پر علاج کی کوشش کی اور آخر میو ہسپتال لاہور میں ماہر ڈاکٹروں سے بھی علاج کرایا۔مگر مرض بڑھتا گیا جوں جوں دوا کی قریباً چار ماہ کی شدید اور تکلیف دہ علالت کے بعد یہ معاندِ احمدیت اپنے سب جاہ و جلال کو چھوڑ کر دنیا سے اٹھ گیا۔حاتم علی کی وفات کے دوسرے دن جماعت احمد یہ شاہ مسکین ضلع شیخوپورہ کا تبلیغی جلسہ تھا اس میں شمولیت کے لئے علاوہ اور علماء سلسلہ کے حضرت مولانا غلام رسول صاحب را جیکی بھی تشریف لائے ہوئے تھے۔میرے مرحوم بھائی مولوی امیر احمد صاحب بھی اس جلسہ میں شریک ہونے کے لئے شاہ مسکین گئے اور وہاں پر حضرت مولانا صاحب سے ملاقی ہوئے۔آپ نے میرے بھائی جان کو دیکھتے ہی فرمایا۔”سنائیے بھائی محمد امیر اس گالیاں دینے والے حاتم علی کا کیا حال ہے“۔میرے بھائی مرحوم نے بطور امتحان کے اصل واقعہ کو چھپاتے ہوئے عرض کیا۔کہ حضرت! حاتم علی کے غرور و تکبر کو آپ جانتے ہیں اس میں کیا کمی ہو سکتی ہے۔یہ سن کر حضرت مولوی صاحب متبسم چہرے سے فرمانے لگے۔گھروں میں آواں تے سنیے توں دیو ہیں۔مجھ سے بات چھپاتے ہو۔جس دن سے میں تمہارے گاؤں سے گیا ہوں اس دن سے حاتم علی کی بیماری اور اس کے علاج کی کیفیت متواتر مجھے بذریعہ کشف بتائی جارہی ہے۔کیا کل تمہارا سارا گاؤں اس کو قبرستان میں دفن کر کے بارش اور آندھی میں واپس نہیں لوٹا“۔چونکہ واقعات ہو بہو اسی طرح ہوئے تھے میرے بھائی صاحب حضرت مولوی صاحب کی زبانی یہ کیفیت سن کر حیران ہو گئے۔کہ کس طرح ایک سو میل کے فاصلہ پر بیٹھے ہوئے جملہ حالات سے اللہ تعالیٰ نے ان کو ساتھ ساتھ آگاہ فرمایا۔چنانچہ میرے بھائی صاحب نے شاہ مسکین کے جلسہ میں حاضرین کے سامنے احمدیت کی صداقت کے طور پر یہ واقعہ بیان کیا اور وہ ہمیشہ لوگوں کے سامنے حلفیہ اس واقعہ کا ذکر کرتے تھے۔سچ ہے جو خدا کا ہے اسے للکارنا اچھا نہیں ہاتھ شیروں پر نہ ڈال اے رو بہ زار ونزار خاکسار رائے ظہور احمد خاں ناصر۔بھا کا بھٹیاں ضلع گوجرانوالہ مورخہ ۵۷-۵-۱۸