حیات قدسی — Page 638
۶۳۸ زیر ہدایت یہی جواب دیا کہ ہم از خود کسی امیدوار سے امداد کا وعدہ نہیں کر سکتے۔ہمارے امام ہمام سید نا حضرت خلیفۃ المسیح الثانی ایدہ اللہ جوملکی اور قومی حالات اور مفاد کو سب سے زیادہ بہتر سمجھتے ہیں ہمیں جوارشاد فرما ئیں گے اس کے مطابق قدم اٹھایا جائے گا۔علاقہ کے بھٹی قوم کے رؤسا اور امید وار مذکور بار بار فیصلہ کرنے پر اصرار کرتے لیکن محترم میاں سردار خاں صاحب رضی اللہ تعالیٰ عنہ ان کو یہی جواب دیتے کہ جب تک حضور ایدہ اللہ کی طرف سے کوئی فیصلہ صادر نہ ہو وہ کسی امیدوار کے حق میں وعدہ نہیں کر سکتے۔الغرض مرکزی ہدایت کی ہم سب کو بہت انتظار تھی اور ہم سے بڑھ کر ہمارے غیر احمدی رشتہ داروں کو تھی آخر کچھ دنوں کے بعد حضرت مولانا غلام رسول صاحب راجیکی سیدنا حضرت خلیفۃ المسیح ایدہ اللہ تعالیٰ کے ارشاد کے ساتھ تشریف لے آئے اور گاؤں کی بھری مجلس میں جس کے میں علاوہ احمدیوں کے بہت سے غیر احمدی بھی موجود تھے۔یہ ہدایت سنائی کہ اسمبلی کی نشست کے لئے ووٹ چوہدری ریاست علی صاحب چٹھہ کو دئیے جائیں۔یہ خلاف توقع فیصلہ سن کر علا وہ احمد یوں کے تمام حاضرین جو چوہدری ریاست علی کے مخالف تھے ، غصہ سے تلملا اٹھے اور احمدیوں کے خلاف سب وشتم اور مخالفانہ مظاہروں سے علاقہ کی فضا کو مسموم کر دیا۔ہم نے اس مخالفت کو صبر و استقلال سے برداشت کیا۔اس موقع پر علاقہ کے ایک بھٹی رئیس حاتم علی نامی نے تو مخالفت انتہا کو پہنچا دی اور جوشِ غیظ میں نہ صرف یہ کہ عام احمدیوں کو گالیاں دیں بلکہ حضرت مولانا صاحب اور سیدنا حضرت خلیفۃ المسیح الثانی ایدہ اللہ تعالیٰ اور حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام کو بھی سب وشتم کا نشانہ بنایا اور ان بزرگ ہستیوں کی سخت ہتک اور توہین کا ارتکاب کیا۔جب اس کی بدزبانی کی انتہا ہو گئی تو و حضرت مولانا راجیکی صاحب نے حاضرین مجلس کے سامنے اس کو ان الفاظ میں مخاطب کیا حاتم علی ! دیکھ اس قدر ظلم اچھا نہیں تیرے جیسوں کو خدا تعالی زیادہ مہلت نہیں دیتا۔یا درکھ اگر تو نے تو بہ نہ کی تو جلد پکڑا جائے گا۔حضرت مولوی صاحب مجمع عام میں یہ الفاظ کہ کر اور احباب جماعت کو صبر کرنے اور اللهُمَّ إِنَّا نَجْعَلُكَ فِی نُحُورِهِمْ وَ نَعُوذُبِكَ مِنْ شُرُورِهِم 106 کی دعا پڑھتے رہنے کی تلقین کر کے