حیات قدسی

by Other Authors

Page 611 of 688

حیات قدسی — Page 611

۶۱۱ آل ابراہیم کی سب برکات کا مورد آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اور آل محمد کو بنایا جانا ان معنوں میں ہے کہ آپ آدم سے لے کر مسیح تک سب انبیاء کے کمالات اور برکات کے مورد بنائے گئے۔رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا وہ کشف جس میں آپ نے بیت المقدس میں سب انبیاء کی امامت میں نماز ادا کی اس سے بھی یہی ظاہر ہوتا ہے کہ آپ کی اتباع سے سب انبیاء کے کمالات منفرداً اور مجموعاً حاصل ہو سکتے ہیں۔چنانچہ عُلَمَاءُ اُمّتی گانبِيَاءِ بنی اسرائیل کے ارشاد کے رو سے آپ کی امت کے مجددین میں سے ہر ایک مجدد کسی نہ کسی نبی کے کمالات کا وارث ہوا اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام جو مجد واعظم ہیں جری اللہ فی حلل الانبیاء کی شان کے ساتھ سب انبیاء کے کمالات کے مجموعی طور پر وارث بنائے گئے بلکہ اس لحاظ سے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بھی آل ابراہیم سے ہیں۔مسیح موعود آل محمد میں سے ہونے کی وجہ سے کما صلیت اور كما باركت على ابراهيم و على آل ابراهیم کے الفاظ سے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے کمالات اور برکات کے بھی ظلمی طور پر کامل وارث ہوئے۔درود شریف کے متعلق حضرت مسیح موعود کی وحی حضرت مسیح موعود علیہ السلام پر جو وحی درود شریف کے متعلق نازل ہوئی وہ یہ ہے صل علیٰ محمد و آل محمد الصلواة هو المربى انى رافعك الي والقيتُ عليك محبةً بنی 96 یعنی محمد اور آل محمد پر درود بھیج۔درود ہی تربیت کر کے ترقی اور کمال بخشنے والا ہے میں تجھے بلند کروں گا۔میں اپنی طرف سے تجھے محبت کا خلعت پہناؤں گا۔حضرت مسیح موعود نے یہ ترجمہ خود فرمایا۔اور اس کے ساتھ ہی فرماتے ہیں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر درود بھیجنے سے انسان عیسی بلکہ موسیٰ کا مقام پا سکتا ہے۔جس کا ثبوت میں تیرے وجود کو پاک بناؤں گا۔پھر حقیقۃ الوحی کےص ۱۲۸ پر فرماتے ہیں :۔ایک مرتبہ ایسا اتفاق ہوا کہ درود شریف کے پڑھنے میں یعنی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر درود بھیجنے میں ایک زمانہ تک مجھے بہت استغراق رہا کیونکہ میرا یقین تھا کہ خدا تعالیٰ کی راہیں نہایت دقیق راہیں ہیں۔وہ بجز وسیلہ نبی کریم کے مل نہیں سکتیں جیسا