حیات قدسی

by Other Authors

Page 609 of 688

حیات قدسی — Page 609

حضرت ابراہیم علیہ السلام کے سلسلہ نسل کے لحاظ سے اس نمونہ پر عطا ہو گی۔جو حضرت ابرا ہیم کو اسمعیلی سلسلہ اور آنحضرت کے وجود باجود کے ظہور سے ملی۔سوخدا کے فضل سے آج اس زمانہ تک امت کی دعا اور درود کے پاک اثرات ظہور میں آچکے اور ایک طرف تیرھویں صدی تک ہر صدی کے سر پر مجددین کی بعثت سے عُلَمَاءُ امتى كَانَبِيَاءِ بنی اسرائیل کے رو سے اسحاقی سلسلہ کی برکت کا نمونہ ظاہر ہو گیا اور دوسری طرف اس چودھویں صدی کے سر پر سیدنا حضرت مسیح موعود و امام مہدی معہود علیہ السلام کی بعثت سے وہ دوسری بات بھی ظاہر ہوگئی جو اسمعیلی سلسلہ کی برکت کے نمونہ پر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت سے ظہور میں آئی اور جس طرح آپ کی بعثت اسرائیلی انبیاء کے بعد ظہور میں آئی اور شان میں بھی اسرائیلی انبیاء کی برکات سے بڑھ چڑھ کر ظہور میں آئی۔اسی طرح تیرھویں صدی تک کے مجددین جو اسرائیلی انبیاء کے نمونہ پر آئے ان سے مسیح موعود علیہ السلام بوجہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے مظہر اکمل اور بروز اتم ہونے کے پہلے کے سب مجددین سے افضل شان کے ساتھ ظہور فرما ہوئے اور جس طرح آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میں خاتم الانبیاء ہونے کی خصوصیت ہے اسی طرح آپ میں خاتم الاولیاء ہونے کی خصوصیت پائی جاتی ہے۔پس آج اس زمانہ میں اہلِ اسلام کے لئے بے حد مسرت اور خوشی کا موقع ہے کہ ان کا درود شریف پڑھنا با برکت ثمرات اور مبارک نتائج کے ساتھ ظہور پذیر ہوا۔رسول کریم کی نبوت کے برکاۃ اگر چه صدیقیت شہریت اور صالحیت کے مدارج کے لوگ بھی امت میں پیدا ہوئے لیکن النبی کے لفظ میں جو یصلون علی النبی کے ارشاد میں ہے اس بات کی طرف اشارہ پایا جاتا ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی صدیقیت۔شہیدیت۔صالحیت اور اپنی مومنانہ شان کا جلوہ دکھاتے ہوئے جہاں بہت سے صدیق شہید صالح اور مومن پیدا کئے۔وہاں نبی بھی آپ کی اتباع سے آپ کی امت میں پیدا ہونے والے ہیں۔یہی وجہ ہے کہ آل محمد کو النبی کے لفظ میں داخل کر کے کمالات نبوت میں بھی ظلی طور پر شامل ہونے کی طرف اشارہ کیا گیا۔