حیات قدسی — Page 589
۵۸۹ مسلمانوں کا موعود مسیح قرار دینے لگے اور اس طرح دین میں فتنہ اور فساد پیدا ہوا۔یہ علماء چونکہ راسخون فی العلم‘ نہ تھے اس لئے غلط تاویلات کے مرتکب ہوئے۔حالانکہ صحیح تاویل کا علم محض خدا تعالیٰ کے فضل سے حاصل ہوتا ہے اور وہ ان لوگوں کو حاصل ہوتا ہے جو وقت کے مامور پر ایمان لا کر دعاؤں اور تدبر سے صراط مستقیم پر ہدایت پاتے ہیں۔میں نے کہا کہ میری پیش کردہ آیات سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ صحیح تاویل قرآن کریم کے رُو سے جائز ہے۔ہاں ان لوگوں کے لئے جو کجی سے تاویلات کریں ایسا کرنا جائز نہیں۔اب میں حاضرین مجلس کے سامنے حدیث کیف انتم اذا نزل فيـكـم ابـن مــريــم و امامکم منکم کے متعلق صحیح تاویل پیش کرتا ہوں۔ہم احمدیوں پر یہ الزام لگایا گیا ہے کہ احمدی تاویلوں سے کام لیتے ہیں۔حالانکہ احمدی اگر چہ تاویل کرتے ہیں لیکن وہ صحیح تاویل کرتے ہیں مگر غیر احمدی علماء نہ صرف یہ کہ تاویلات سے کام لیتے ہیں بلکہ بسا اوقات غلط تاویلات کرتے ہیں۔اس مختصر سی حدیث میں ضمیر جمع مخاطب چار دفعہ استعمال ہوئی ہے یعنی (۱) انت م (۲) فيكم (۳) امامكم (٤) منکم کے الفاظ میں۔میں نے غیر احمدی مولوی صاحب سے پوچھا کہ کیا یہ درست ہے؟ انہوں نے تصدیق کی۔پھر میں نے کہا کہ اس حدیث میں جن لوگوں کو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے انتم کے الفاظ میں مخاطب فرمایا وہ کون تھے۔مولوی صاحب۔فرمایا کہ وہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب تھے۔میں نے کہا یہ درست ہے اور اب یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ آنحضرت نے جن اصحاب کو مخاطب کر کے فرمایا تھا کہ ابن مریم تم میں نازل ہوگا۔کیا ان کی زندگی میں ابن مریم ان میں نازل ہوئے۔یا جب تک ابن مریم کا نزول نہ ہوا ان اصحاب کی زندگی کے ممتد کرنے کا اللہ تعالیٰ نے سامان فرمایا۔اگر ایسا نہیں ہوا اور اس حدیث کے مذکورہ بالا الفاظ کی کوئی تاویل کرنے کی بھی گنجائش نہیں تو کیا اس حدیث کے صدق پر حرف نہیں آتا۔کیونکہ اس حدیث کے مطابق صحابہ کی زندگیوں ابن مریم کا نزول ان میں نہیں ہوا۔یہ سن کر مولوی صاحب کہنے لگے کہ حدیث صحیح ہے اور ابن مریم کا نزول بھی درست ہے صحابہ کرام کی وفات کے بعد اس حدیث کے مخاطب وہ مسلمان ہوں گے جن میں مسیح علیہ السلام کا نزول ہوگا۔میں نے عرض کیا کہ صحابہ کی جگہ بعد کے زمانہ کے مسلمان مراد لینا تو تاویل ہے اور تاویل کو آپ