حیات قدسی — Page 572
۵۷۲ آسنوں کے نمونے دیئے گئے ہیں یعنی عورت و مرد کے سما گم کے حیا سوز مناظر۔جب یہ مندر بنایا گیا تو بے حیائی کا عجیب زمانہ تھا اور بڑے بڑے پنڈتوں اور لیڈران قوم کا انداز فکر اتنا پست اور فاسد تھا کہ ان کی اخلاقی حالت پر رونا آتا ہے۔مندر کے چبوترے کے اوپر ایک پاسبان بیٹھا تھا۔جو صرف مردوں کو درشن کے لئے اندر جانے کے کی اجازت دیتا تھا۔عورتوں کو اندر جانے کی اجازت نہ تھی۔جب ہم وہاں پہنچے تو امریکہ کی ایک سیاح لیڈی اس مندر کو دیکھنے کے لئے اندر داخل ہونے لگی۔دربان نے اس کو روکنا چاہا لیکن اس کے لیڈی نے کہا کہ میں سیاحت کے لئے امریکہ سے ہندوستان آئی ہوں اور نیپالی مندر دیکھنا میرے پروگرام میں شامل ہے۔اس لئے مجھے روکا نہیں جا سکتا۔اس نے پانچ روپے محافظ کی نذر کئے اور اندر جانے میں کامیاب ہوگئی۔اخلاقی اعتبار سے ایسے حیا سوز نظارے جگن ناتھ پوری اور اڑیسہ کے دوسرے مشہور مندروں میں بھی کثرت سے نظر آتے ہیں، جن کو دیکھ کر اب شریف ہندو بھی شرماتے ہیں۔اللہ بخش صاحب ضیاء پیشاوری کے متعلق رویا اللہ بخش صاحب ضیاء پشاوری نے قبول احمدیت کے بعد ابتدا میں بہت اخلاص اور عقیدت کا اظہار کیا۔۱۹۲۹ء میں میں نے ایک عربی قصیدہ جس کے ساڑھے تین صد اشعار تھے پشاور میں لکھا۔اللہ بخش صاحب نے اس قصیدہ کو طبع کرانے کے لئے اسے کا تب سے لکھوایا۔اور حضرت مولانا محمد سرور شاہ صاحب رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے سوانح حیات بھی شائع کرنے کا ارادہ کیا اور سلسلہ کے بعض دیگر کام بھی اپنی مرضی کے ماتحت سر انجام دینے شروع کئے۔ضیاء صاحب ابھی قادیان مقدس میں تھے کہ خاکسار کو تبلیغی سلسلہ میں لکھنو جانا پڑا۔وہاں پر میں نے ایک رات رؤیا میں دیکھا کہ ضیاء صاحب کا خوبصورت چہرہ بالکل سیاہ ہو گیا ہے۔مجھے اس رویا سے بہت تشویش ہوئی۔قرآن کریم کی آیات کی روشنی میں اس کے دو مطلب ہو سکتے تھے۔اول لڑکی پیدا ہونا جیسا کہ آیت اذا بشــــر احدهم بالانثى ظل وجهه مسودًا وهو كظيم سے مستنبط ہوتا ہے۔دوئم ایمانی حالت سے ارتداد اختیار کرنا۔جیسا کہ سورۃ آل عمران میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے فَأَمَّا الَّذِينَ اسْوَدَّتْ وُجُوهِهِمَ اكَفَرْتُمْ بَعْدَ اِيْمَانِكُمُ : یعنی سیاہ چہروں کی تعبیر ایمان کے بعد کفر اختیار کرنا ہے یہ دوسری تعبیر