حیات قدسی

by Other Authors

Page 568 of 688

حیات قدسی — Page 568

۵۶۸ ٹھکانے ہوئی۔اس کے عقیدتمند اس سے بدظن ہونے لگے اور اس نے ان کو کہا کہ چونکہ میرے دعویٰ کے بعد خدا تعالیٰ کی تائید میرے شامل حال نہیں اس لئے میں اپنے دعوی کو سر دست ملتوی کرتا ہوں۔تنگی معاش کی وجہ سے اس نے غیر مبائعین کے امیر مولوی محمد علی صاحب سے بھی خط و کتابت شروع کی۔لیکن انہوں نے اس کو منہ لگانا پسند نہ کیا۔اس کے بعد اس نے ٹمٹم چلانے کا کام شروع کیا لیکن اس میں بھی کامیاب نہ ہوا اور اب معلوم نہیں کہ وہ کہاں اور کس حالت میں ہے۔ظہیر الدین کے متعلق میں نے دور دیا بھی دیکھے تھے۔جن کا ذکر انہی دنوں اخبار ” فاروق مورخه ۲۵ جولائی ۱۹۱۸ء میں شائع ہو گیا تھا۔یہ رویا مندرجہ ذیل الفاظ میں شائع ہوئیں۔دور ویا مندرجہ ذیل سطور مولانا غلام رسول صاحب فاضل را جیکی کے ایک خط سے چھاپی جاتی ہیں۔پہلی رویا ڈاکٹر نور محمد صاحب نے کل میرے نام ایک اشتہار آخری حجت نامہ بھیجا۔جس میں کئی طرح کی ہزلیات کا ذکر ہے اس میں اس نے ظہیر کی پیشگوئی شائع کی ہے کہ میں ڈیڑھ سال کی میعاد میں فوت ہو جاؤں گا۔کل دعا کا موقع میسر آیا اور ان دعاؤں میں ہی سو گیا۔کیا دیکھتا ہوں کہ جلسہ سالانہ ہے اور اس میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام منتظم ہیں۔موسم بہار کا معلوم ہوتا ہے۔اسی اثناء میں حضرت ممدوح کی طرف سے ایک خوبصورت کٹورے میں جو غالباً چاندی کا معلوم ہوتا ہے۔ایک عجیب قسم کا شربت جو نہایت ہی لذیذ اور خوشبو دار ہے، آیا۔تا کہ میں اسے پی لوں اور میں نے اسے تین دفعہ کر کے پیا ہے۔پھر میں خواب میں ہی حکیم محمد الدین صاحب سے کہتا ہوں کہ ظہیر نے تو میرے لئے ڈیڑھ سال کی پیشگوئی کی تھی کہ میں مرجاؤں گا۔لیکن اس شربت سے مجھے یہی علم دیا گیا ہے کہ میں تین سال سے پہلے نہیں مروں گا۔“ دوسری رویا ان دنوں میں نے ظہیر الدین کے فتنہ کے متعلق بہت زور سے دعا کی اور اس بارہ میں مجھے دکھایا گیا کہ ایک سانپ ہے جس پر سیاہ اور سفید قسم کے داغ اور نقش ہیں۔وہ ایک دیوار پر چڑھ رہا ہے۔میرے ہاتھ میں ایک بہت بڑا سونٹا ہے جس سے میں نے اسے بالکل کچل دیا ہے اور اس کے سر