حیات قدسی — Page 567
۵۶۷ ایدہ اللہ بنصرہ العزیز بھی سخت بیمار ہو گئے۔ان ایام میں خاکسار لا ہور سے مرکز مقدس آیا اور حضور کی شدید علالت کے پیش نظر حضور کی عیادت کے لئے حاضر ہوا۔حضور اس وقت چار پائی پر لیٹے ہوئے تھے اور مکرم و محترم مولوی عبدالرحیم صاحب درد اور جناب ڈاکٹر حشمت اللہ صاحب چار پائی کے پاس فرش پر بیٹھے ہوئے تھے۔جب خاکسار حقیر غلام کمرہ کے اندر آ کر نیچے فرش پر بیٹھنے لگا تو حضور فوراً اٹھ کر فرمانے لگے کہ آپ سرہانہ کی طرف تشریف رکھیں۔میں نے عرض کیا کہ خاکسار نیچے فرش پر بیٹھنے میں ہی سعادت سمجھتا ہے۔حضور نے اصرار کے ساتھ سرہانہ کی طرف بیٹھنے کا ارشاد کیا اور فرمایا کہ آپ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے صحابہ میں سے ہیں اور صحابہ کا احترام ضروری ہے۔چنانچہ حضور نے ایک طرف ہو کر خاکسار کو چار پائی پر بٹھا لیا۔جب خاکسار عیادت کے بعد واپس ہوا تو حضور کے اخلاق حسنہ اور نمونہ ادب و احترام صحابہ حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام سے بے حد متاثر ہوا۔اور دیر تک رقتِ قلب سے حضور کے لئے اور اور حضور کی نسلوں کے لئے دعا کرتا رہا۔اے خیر الراحمین اللہ تو اپنے ان مقدسوں پر اپنی بے شمار رحمتیں تا ابد نازل فرماتا رہ۔آمین ظہیر الدین اروبي ظہیر الدین اروپی مدعی الہام تھا اور اپنے آپ کو یوسف موعود کہتا تھا۔ایک دن جب میں مبارک منزل احاطہ میاں چراغ دین صاحب میں قرآن کریم کا درس دے رہا تھا تو وہاں ظہیر الدین آگیا اور اس نے سب احباب کے سامنے اپنا دعویٰ پیش کیا اور قبول کرنے کی دعوت دی۔اس نے اپنے دعویٰ کی تائید میں کچھ اشتہار بھی شائع کئے تھے اور کئی لوگ اس کے ہم خیال بھی ہو گئے تھے۔میں نے اسے کہا کہ آپ ایسی باتوں سے پر ہیز کریں اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی جماعت میں فتنہ کی صورت پیدا نہ کریں۔اس پر اس نے کہا کہ میرا دعویٰ خدا تعالیٰ کی وحی کے ماتحت ہے۔میں نے اسے کہا کہ کیا آپ اپنے اس دعوی الہام کے متعلق تحریر دے سکتے ہیں اس پر اس نے ایک تحریر لکھ دی۔ابھی اس تحریر پر چالیس دن ہی گزرے تھے کہ اسے کسی شدید جرم کی بناء پر ملازمت سے معزول کر دیا گیا۔کچھ عرصہ بعد اس پر غبن کا مقدمہ دائر ہوا اور اس کی بہت ذلت اور رسوائی ہوئی۔بعد ازاں ایک عورت کے اغوا کے کیس میں بھی وہ ماخوذ ہوا۔ان پیہم حوادث سے اس کی ہوش