حیات قدسی

by Other Authors

Page 566 of 688

حیات قدسی — Page 566

اہل حدیث جو مولوی ثناء اللہ صاحب امرتسری کی ادارت میں شائع ہوا تھا مجھے دکھایا اس پر چہ میں غالباً ریاست جودھپور کے ایک مستفسر کا سوال درج تھا اور لکھا تھا کہ کسی پرانی قلمی بیاض میں ایک دوائی کا نام بطور خط رموز تحریر ہے۔جس کے خواص بہت عمدہ اور اللہ تعالیٰ کے خزائن میں سے ایک خزانہ بتائے گئے ہیں لیکن اس کا نام رمز میں اس لئے تحریر کیا گیا ہے کہ تا نا اہل اس کے ذریعہ سے ناجائز فائدہ نہ اٹھاسکیں۔اس دوائی کا نام علم جفر کے حساب جمل اور علم نجوم کے بروج اور ہفت سیارگان اور علم رمل کی ۱۶ اشکال سے مرکب صورت مرموزہ میں پیش کیا گیا تھا۔خاکسار کو بھی ان علوم کے مطالعہ کا موقع بفضلہ تعالیٰ میسر آیا تھا۔اور ان علوم میں کئی کتب میں نے دیکھی تھیں۔جب احباب فیروز پور نے بتایا کہ شہر کے غیر احمدی علماء کے نزدیک یہ عقدہ لاتخل ہے اور اس دوائی کا نام کسی کو معلوم نہیں ہوتا تو خاکسار نے اس مرموزہ نام کے متعلق غور کیا۔اللہ تعالیٰ کے خاص فضل سے میں یہ عقدہ حل کرنے میں کامیاب ہو گیا اور حسب قواعد علم جفر، نجوم او ررمل اس کا حل شرح و بسط سے لکھ کر اخبار اہل حدیث میں شائع ہونے کے لئے بھجوا دیا۔جو نام میں نے قواعد مخصوصہ کی روشنی میں استخراج کیا وہ حبُّ الغراب یعنی کچلہ تھا۔جب میر احل شدہ جواب اخبار’ اہل حدیث میں شائع ہوا تو مولوی محمد امین صاحب جو مولوی ثناء اللہ صاحب کے خاص شاگردوں میں سے تھے اور سلسلہ احمد یہ کے سخت مخالف تھے اس جواب کو پڑھ کر میری ملاقات کے لئے قادیان آئے اور ان علوم کے متعلق بعض دیگر مسائل بھی دریافت کرتے رہے۔یہ مولوی صاحب سخت گندہ دہن تھے اور قادیان کا نام سننا بھی گوارا نہ کرتے تھے لیکن میرے جواب کو دیکھ کر ان علوم کے متعلق بعض دیگر با تیں معلوم کرنے کے لئے میرے پاس قادیان آگئے۔اس واقعہ کا خاکسار نے اس لئے ذکر کیا ہے کہ ہر قسم کے علوم وفنون دینی خدمات کے لئے بسا اوقات بطور آلات کے کام دیتے ہیں اور ان علوم کے ذریعہ کئی لوگوں کے ظلماتی حجاب دور ہو جاتے ہیں اور ان کے لئے ہدایت کا رستہ آسان ہو جاتا ہے۔اخلاق کریمانہ ۱۹۱۸ء میں جب انفلوانیزا کی و با شدت اختیار کر گئی اور سیدنا حضرت خلیفۃ المسیح الثانی