حیات قدسی — Page 43
۴۳ اگر چہ میاں سلطان محمود کی عمر کوئی پچھپن سال کے قریب تھی مگر اس کی بیوی کی درخواست پر میں نے دعا کی تو اللہ تعالیٰ نے مجھے بتایا کہ میاں سلطان محمود کی عمر اسی (۸۰) سال ہوگی۔چنانچہ اس بشارت کے بعد اللہ تعالیٰ نے اسے صحت بھی دی اور اسی سال تک زندہ بھی رہا۔الحمد للہ علی ذالک عمر بی بی میری احمدیت کے ابتدائی زمانہ میں جبکہ میری مخالفت بہت زوروں پر تھی اور مخالف لوگ میری عداوت میں طرح طرح کے شاخسانے کھڑے کرتے رہتے تھے۔اس زمانہ میں موضع دھد رہا کا ایک ماچھی (سقہ ) مستمی اللہ دتا میری باتیں سن کر لوگوں کی مخالفت پر بہت افسوس کرتا تھا۔اس نے ایک دن میری دعوت طعام کی اور مجھے اپنے گھر لے گیا میں نے اس کی بیوی عمر بی بی کو بھی احمدیت کی باتیں سنائیں۔اس نے جب یہ باتیں سنیں تو کہنے لگی یہ تو بڑی اچھی اور بھلی باتیں ہیں ، معلوم نہیں یہ لوگ کیوں ان باتوں کو بُرا سمجھتے ہیں۔اس کے بعد اس نے اپنے جوان عمر لڑکوں کو بلایا اور انہیں نصیحت کی کہ دیکھو اگر تم میرے بچے ہو تو حضرت مرزا صاحب اور میاں غلام رسول صاحب کی کبھی مخالفت نہ کرنا۔ان لڑکوں نے اور اس کے خاوند اللہ دتا نے جب اس کی یہ نصیحت سنی تو وہ کہنے لگے کہ ہم نے تو جب سے میاں صاحب کے منہ سے حضرت مرزا صاحب کی باتیں سنی ہیں مرزا صاحب کو بزرگ اور پاک انسان سمجھتے ہیں۔خدا کی حکمت ہے کہ کچھ عرصہ بعد عمر بی بی بیمار ہوگئی اور اس نے اپنے لڑکے حسن محمد کو میری طرف کہلا بھیجا کہ میرا آخری وقت ہے آپ ضرور آئیں۔چنانچہ میں یہ پیغام سنتے ہی موضع دھد رہا پہنچا تو عمر بی بی کی حالت سکرات موت کی پائی۔اس وقت مجھے اس کی ہمدردی اور احمدیت کی تائید یا د آئی تو دل بھر آیا اور میں نے دعا شروع کر دی ابھی دعا کرتے ہوئے کوئی دس منٹ ہی گزرے تھے کہ عمر بی بی نے آنکھیں کھول دیں اور مجھے کہنے لگی کہ میرا یہ آخری وقت ہے میرا جنازہ آپ نے پڑھانا ہو گا۔پھر خاوند اور بیٹوں کو بھی مخاطب کر کے کہا کہ میرا جنازہ ان کے بغیر کسی سے نہ پڑھایا جائے۔اس ہوش کے لمحات میں میں نے اسے کہا کہ اگر تو پسند کرے تو میں تجھے کلمہ شریف کے معنے اور سورۃ لین سناؤں کہنے لگی کہ ہاں ضرور سنائیے۔چنانچہ جب میں نے اسے کلمہ کے معنے اور خدا تعالیٰ کے احسانات کا ذکر سنایا تو وہ آبدیدہ ہو گئی۔اس کے بعد جب میں سورہ یسین بھی سنا چکا تو کہنے لگی آپ مجھے اجازت دیں کہ میں اپنی لڑکی اور لڑکوں کو بھی مل لوں۔میں