حیات قدسی — Page 518
۵۱۸ اس بچے کی سب تکلیف تپ اور دردا بھی دور کر دی جائے گی۔اور ورم بھی صبح تک دور کر دی جائے گی“۔میں نے اس بشارت سے عزیز اقبال احمد کو اسی وقت اطلاع دے دی۔تب اللہ تعالیٰ کی نظر کرم سے تپ اور درد چند منٹوں میں ہی جاتے رہے۔اور صبح کے وقت جب عزیز اٹھا تو اس کی متورم آنکھیں بھی بالکل صحتیاب تھیں۔چنانچہ بچے نے اٹھتے ہی خوشی سے اس بات کا اظہار کیا کہ میں اب بالکل اچھا ہوں اور مجھ پر اللہ تعالیٰ کا فضل ہو گیا ہے۔میں اس معجزانہ شفا اور کشفی نظارے پر اپنے بے نظیر اور خیر الحجو بین خدا کی کرم فرمائی پر اس کے حضور سجدات شکر بجا لا رہا تھا۔اور میری روح ہاں اس عبد حقیر اور نالائق خادم کی روح اپنے پیارے مسیح محمدی علیہ الصلوۃ والسلام کی قوت قدسیہ اور برکات روحانیہ کے فیضان کے مشاہدہ پر اس کی بارگاہ پر تو اجد اور تراقص کر کے اس پر اور اس کی آل و اولاد پر درود بھیج رہی تھی۔وَالشُّكُرُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَلَمِينَ۔سہارنپور میں ایک کشفی نظارہ خاکسار سہارنپور میں بسلسلہ تبلیغ وارد تھا کہ ایک دن میں نے کشفی نظارہ دیکھا کہ میں دار المسیح میں مقیم افراد میں سے ایک ہوں۔اس وقت سیدنا حضرت اقدس مسیح موعود علیه السلام بھی دار المسیح کے کمروں اور صحن میں پھرتے ہوئے معلوم ہوتے ہیں۔اسی اثناء میں میں کیا دیکھتا ہوں کہ سیدنا حضرت خلیفۃ المسیح الثانی ایدہ اللہ تعالیٰ دار المسیح کے ایک کمرہ سے باہر تشریف لائے ہیں۔آپ نے نہایت ہی خوبصورت لباس زیب تن کیا ہوا ہے۔اس لباس پر بے شمار ہیرے اور جواہرات جڑے ہوئے ہیں۔جن کی خوبصورتی کو اور چمک دمک آنکھوں کو خیرہ کر رہی ہے۔حضور کے سر پر ایک تاج ہے۔جو ہیروں اور جواہرات سے مرقع ہے۔اور بہت خوشنما ہے۔اور کانوں میں نہایت خوبصورت الماس کے آویزے ہیں۔اس کے دوسرے تیسرے روز بعد رات کو رویا میں دیکھا کہ ایک بہت اونچا اور خوش منظر پہاڑ ہے۔جس پر ہر طرف سبزہ زار نظر آتا ہے۔اور ایک طرف کوٹھیاں اور بنگلے تعمیر شدہ ہیں۔وہاں پر ایک وسیع و عریض صحن ہے۔جس میں ایک طرف سیدنا حضرت خلیفۃ المسیح الثانی ایدہ اللہ تعالیٰ