حیات قدسی

by Other Authors

Page 38 of 688

حیات قدسی — Page 38

۳۸ سے کوئی چار میل کے فاصلہ پر پہنچے تو سورج غروب ہو گیا۔ادھر میاں غلام حید رصاحب کو سفر کی تھکان اور سردی کی شدت سے بخار سا محسوس ہونے لگا۔پاس ہی ایک سکھوں کا گاؤں منیس نام تھا۔ہم نے چاہا کہ رات وہاں بسر کر لیں مگر کوئی صورت نہ بنی۔آخر افتان و خیزاں رات کے دس بجے موضع کامونکے پہنچے اور وہاں ایک ویران مسجد میں قیام کے لئے ڈیرے ڈال دیئے۔مسجد کا ایک ہی کمرہ تھا۔جس میں کچھ کسیر بچھی ہوئی تھی اور اس کے ایک گوشہ میں ایک مسافر لیٹا ہوا تھا۔میں نے میاں۔صاحب موصوف کو وہاں لٹا دیا اور اپنا کھیں اتار کر ان کے اوپر دے دیا اور خود باقی نقدی لے کر کھانا وغیرہ مہیا کرنے کے لئے بازار کی طرف چل پڑا۔جب بازار پہنچا تو دیکھا کہ تمام دکانیں بند تھیں اور سارے گلی کوچے سنسان پڑے تھے۔کوشش کے باوجود جب کوئی سبیل نہ بنی تو میں مسجد میں واپس آگیا۔دیکھا تو میاں غلام حیدر صاحب کا بخار بہت ہی تیز ہو چکا تھا۔اب میں حیران ہوا کہ اس غریب الوطنی میں اگر خدانخواستہ میاں غلام حیدر کی حالت زیادہ خراب ہو گئی تو کیا ہو گا۔یہ خیال کر کے میرا دل بھر آیا اور میں خدا کے حضور سجدہ میں گڑ گڑا کر خوب رویا اور بہت دعا کی۔خدا کی قدرت ہے کہ دعا کے بعد جب میں ناک صاف کرنے کے لئے مسجد کا دروازہ کھول کر باہر نکلا تو کیا دیکھتا ہوں کہ ایک اجنبی آدمی ایک ہاتھ میں گرم گرم روٹیوں اور حلوے کا ایک طشت اٹھائے ہوئے اور دوسرے ہاتھ میں گوشت کے گرم گرم سالن کا پیالہ اٹھائے ہوئے کھڑا ہے۔میں اسے دیکھ کر حیران رہ گیا کہ رات کے دو بجے کے قریب یہ شخص کھانا اٹھائے ہوئے یہاں کیسے کھڑا ہے۔خیر میں نے پوچھا کہ آپ کس سے ملنا چاہتے ہیں۔اس نے کہا کہ میں آپ ہی سے ملنا چاہتا ہوں آپ میرے ہاتھ سے یہ کھانے کے برتن لے لیں۔میں نے پوچھا کہ کھانا کھانے کے بعد ان برتنوں کو کہاں رکھوں۔کہنے لگا وہیں رکھ دینا۔میں نے مسجد کے اندر آ کر جب اس کھانے میں سے کچھ میاں غلام حیدر کو کھلایا تو ان کی طبیعت سنبھل گئی۔اس کے بعد وہ کھانا میں نے بھی سیر ہو کر کھایا مگر پھر بھی ایک آدمی کا کھانا بچ گیا۔وہ مسافر جو ہمارے ساتھ مسجد میں لیٹا ہوا تھا اس نے کہا میں نے بھی ابھی تک کھانا نہیں کھایا۔چنانچہ وہ کھانا اسے دے دیا گیا اور اس نے بھی پیٹ بھر لیا تو اس کے بعد ہم نے برتنوں کو وہیں ایک طرف رکھ دیا اور خود اس کمرہ کی کنڈی چڑھا کر سو گئے۔صبح دیکھا تو اس کمرہ کی زنجیر اسی طرح لگی ہوئی تھی اور وہ مسافر پڑا خراٹے لے رہا تھا مگر وہ برتن غائب تھے۔سچ ہے جو