حیات قدسی — Page 489
۴۸۹ دعائیں کراتے تھے۔اور جب میں بعض امور کے متعلق الہام، کشف یا رویا کے ذریعہ کوئی اطلاع ان کو دیتا اور وہ اسی طرح پوری ہو جاتی تو وہ بہت تعجب کا اظہار کرتے۔جس کے جواب میں میں یہی کہتا کہ اس میں میری کوئی خوبی نہیں۔بلکہ یہ سب کچھ سید نا حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی روحانی برکات اور قوت قدسیہ کا نتیجہ ہے۔جمال ہمنشیں در من اثر کرد وگرنه من ہماں خاکم کہ ہستم اسی طرح خواجہ کمال الدین صاحب اور مرزا یعقوب بیگ صاحب بھی حسن ظن رکھتے تھے۔اور اکثر دعا کے لئے کہتے تھے۔اور اللہ تعالیٰ کے فضل سے جب میں خاص توجہ سے دعا کرتا تھا تو اللہ تعالیٰ کی طرف سے مجھے جواب مل جاتا کہ یہ کام ہو جائے گا۔یا اس طرح ہو جائے گا۔یا تقدیر مبرم کی وجہ سے اس کا ہونا ممکن نہیں۔اور میرا یہ ایمان ہے کہ میں ایک لمبے تجربہ سے اس عقیدہ پر قائم ہوں کہ دعا کا جواب اللہ تعالیٰ کی طرف سے ضرور ملتا ہے۔اور اللہ تعالیٰ کے حضور چالیس دن تک متواتر توجہ سے دعا کرنے سے ضرور ہی جواب ملتا ہے۔خواہ جواب اس کی رحمت کے نشان کے طور پر اثبات میں ملے۔یا حکمت کے نشان کے طور پر نفی میں ملے۔اور قرآن کریم میں اُدْعُونِي أَسْتَجِبْ لَكُمْ 14 اور أُجِيبُ دَعْوَةَ الدَّاعِ إِذَا دَعَانِ 15 کا وعدہ بالکل سچا اور کلامِ واثق ہے۔اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے جو طریق استخارہ سکھایا اس پر عمل کرنے سے یقیناً جواب مل جاتا ہے۔اور بسا اوقات جن لوگوں پر یہ فیضان بند ہو ان پر بھی الہام کشف یا رویائے صالحہ کا فیضان دعائے استخارہ کی برکت سے کھل جاتا ہے۔فیضانِ خداوندی میں اس بارہ میں خود صاحب تجربہ ہوں۔کیونکہ میں وہ ہوں کہ باوجود صد ہا کمزوریوں، کوتاہیوں اور غفلتوں کے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے فیوض سے مجھے یہ برکت بھی عطا ہوئی ہے کہ میں نے بار ہا اللہ تعالیٰ کی قدوس ذات کو دیکھا اور اس کے دیدار کے علاوہ اس کے کلام کو بھی سنا۔اور بار ہا اس شیریں اور زندگی بخش کلام کو سنا اور پھر اس کے ملائکہ کو دیکھا اور ان کے کلام کو بھی سنا۔