حیات قدسی — Page 461
۴۶۱ بسم الله الرحمن الرحيم نحمده ونصلى على رسوله الكريم وعلى عبده المسيح الموعود حصہ پنجم احسنات خداوندی سیدنا حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی روحانی تو جہات اور خاص برکات سے حضور اقدس کی بیعت کے بعد اب تک ایسا دور مجھ پر گذر رہا ہے کہ میں اپنی کسی نیکی کو بھی خواہ وہ عقائد حقہ سے تعلق رکھنے والی ہو یا اعمال صالحہ سے اور خواہ وہ اخلاق حسنہ سے متعلق ہو یا عبادات مخصوصہ سے ، اپنے لئے باعث فخر یا امید و رجاء قرار دینے سے سخت شرم محسوس کرتا ہوں۔میرے دل پر یہ اثر ہے کہ میرے وجود کا ذرہ ذرہ اور میرے قومی اور میرے حواس مع اپنے متعلقات کے میرے محسن اور خیر الراحمین خدا کے انعامات اور احسانات میں سے ہیں اور میرے لئے خدا تعالیٰ کے حضور ان سب نعمتوں کے لئے شکر بجالانا واجب ہے۔اس نے مجھ پر یہ کرم کیا کہ مجھے اپنے عطا کردہ سامانوں اور طاقتوں کے ذریعے نیک کام بجالانے کی توفیق دی۔پس ان نیکیوں کی بجا آوری میں میری کوئی ذاتی خوبی نہیں بلکہ یہ سراسر خدا تعالیٰ کا فضل واحسان ہے۔اس نظریہ سے بفضلہ تعالیٰ مجھے یہ فائدہ پہنچا کہ تکبر، غرور اور نخوت کی رگیں جو میرے لئے حجاب پیدا کرنے والی تھیں ، اکثر کٹ گئیں۔اور حضرت اقدس علیہ الصلوۃ والسلام کی تعلیم اور روحانی تربیت سے مجھے نفس امارہ کے بہت سے گندوں سے آگاہ کیا گیا۔اور جیسا کہ حدیث النبی صلعم میں ہے إِذَا اَرَادَ اللَّهُ بِعَبْدِ خَيْراً بَصِرُهُ عُيُوبَ نَفْسِهِ یعنی جب اللہ تعالیٰ کسی بندہ کے متعلق بھلائی کا ارادہ فرماتا ہے تو اسے اس کے نفس کے عیوب دکھا دیتا ہے۔مجھ پر بھی خودی، خودروی ، خود آرائی ، خودستائی اور خود نمائی کے عیوب ظاہر کئے گئے اور غلبہ اہواء نفس اور ظلمت جہالت پر مجھے آگاہ کیا گیا۔اور محسن فیاض خدا کا روشن چہرہ جو تکبر اور کمر کے پردوں کی وجہ سے مستور تھا ، مجھ پر ظاہر ہوا۔اور گہری نظر سے دیکھنے سے مجھے ایسا معلوم ہوا کہ تکبر اور غرور کا خیال باطل زندگی کے تمام پہلوؤں پر شاخ در شاخ پھیلا ہوا ہے۔حضرت اقدس علیہ الصلوۃ والسلام کے تعلقات اور روحانی فیوض سے