حیات قدسی

by Other Authors

Page 457 of 688

حیات قدسی — Page 457

۴۵۷ بسم الله الرحمن الرحيم نحمده و نصلی علی رسوله الكريم عرض حال یعنی سوانح حیات حضرت مولانا غلام رسول صاحب قدسی را جیکی کا حصہ پنجم قارئین کرام کی خدمت میں خلاصہ پیش ہے۔اس کا پہلا حصہ ۲۰ جنوری ۱۹۵۱ء کو اور دوسرا حصہ یکم ستمبر ۱۹۵۱ء کو جناب سیٹھ علی محمد اے الہ دین صاحب ایم۔اے نے سکندر آباد سے شائع کیا تھا۔تیسرا حصہ جنوری ۱۹۵۴ء میں جناب سیٹھ حد معین الدین صاحب چنت کنٹہ ( حیدرآباد دکن ) کے زیر اہتمام شائع ہوا۔اور چوتھا حصہ ۱۹۵۴ء کے اواخر میں شائع کیا گیا۔کتاب کے یہ تمام حصص بفضلہ تعالیٰ سیدنا حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام کے اور آپ کے خلفائے عظام کی برکت سے بہت مقبول ہوئے اور علاوہ احباب جماعت کے بہت سے دوسرے مسلمانوں اور غیر مسلموں نے ان سے فائدہ اٹھایا۔کئی احباب اور بزرگان سلسلہ نے اس کتاب کے متعلق اپنے قیمتی خیالات کا اظہار فرمایا ہے۔بخوف طوالت یہاں پر صرف سیدی حضرت مرزا بشیر احمد صاحب ایم اے مدظلہ العالی کی نہایت قیمتی اور مؤقر آراء کو درج کیا جاتا ہے۔کے متعلق آپ تحریر فرماتے ہیں :۔حصہ اول واقعات بہت دلچسپ ہیں اور جماعت میں روحانیت اور تصوف کی چاشنی پیدا کرنے کے لئے خدا کے فضل سے بہت مفید ہو سکتے ہیں۔یہ کتاب اسی انداز کی ہے جیسا کہ حضرت خلیفۃ المسیح اول رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اکبر خاں صاحب نجیب آبادی کو اپنے سوانح املاء کرائے تھے“۔حصہ دوم کے متعلق آپ نے مندرجہ ذیل الفاظ میں اپنی رائے کا اظہار فرمایا:۔یہ ایک روح پرور تصنیف ہے۔خدا تعالیٰ جماعت کے لئے مبارک کرے۔